راوی ، ستلج اور چناب کے سیلابی ریلوں نے پنجاب بھر کے 280 دیہات ڈبو دیے، تیار فصلیں پانی میں بہہ گئیں، مکینوں کے آشیانے ڈوب گئے،ہزاروں افراد گھر بار چھوڑ کر رستوں پر آگئے، جہاں زندگی سانس لیتی تھی وہاں اب ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کاسیلاب برقرار ہے جہاں مزید کئی دیہات خالی کرانےکے لیے اعلانات کیےگئے۔ دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے باعث لاہور کی مختلف آبادیوں میں راوی کا پانی داخل ہوگیا، بارہ دری ، ٹھوکر نیاز بیگ،بادامی باغ، چوہنگ، بابو صابو اور رنگیل پورسمیت کئی علاقے زیر آب آگئے۔
گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں بھی صورتحال معمول پر نہ آسکی جہاں کئی دیہاتوں میں تاحال سیلابی پانی موجود ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی تیار فصلیں تباہ ہوگئیں، لوگ محفوظ مقامات پر نقل مکانی کر رہے ہیں۔
سرگودھا، چنیوٹ، بہاول نگر، فیصل آباد میں بھی نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، حکام کے مطابق سیلاب کے باعث پنجاب بھر میں 280 دیہات زیر آب آچکے ہیں جبکہ 28 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ دریائے راوی، چناب اور ستلج میں بلند پانی کے بہاؤ کے باعث پہلے سے متاثرہ علاقوں میں آئندہ 12 سے 18 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہےکہ گوجرانوالہ، لاہور اور گجرات ڈویژن کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں آئندہ 12 سے 18 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے اور یہ بارشیں موجودہ سیلابی صورت حال کو مزید خراب کر سکتی ہیں۔
این ڈی ایم اے نے بتایا کہ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں غیر معمولی بلند سطح پر پانی کا بہاؤ جاری ہے اور متوقع بارشیں دریاؤں اور ندی نالوں میں طغیانی بڑھا سکتی ہیں جس کے نتیجے میں مزید علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔