فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اگست کے لیے محصولات کی وصولی کا ہدف پورا ہونے کا امکان کم ہے اور موجودہ ماہ میں ریونیو محض 900 ارب روپے تک محدود رہنے کا امکان ہے، جو مقررہ ہدف 950 ارب روپے سے 50 ارب روپے کم ہے۔ یہ کمی حالیہ سیلابوں اور شدید بارشوں کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹوں کی وجہ سے ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ ’ شدید موسمی حالات نے کئی شعبوں میں کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ خاص طور پر رئیل اسٹیٹ کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، جب کہ کسٹمز حکام نے بھی حالیہ دنوں میں اشیاء کی درآمد و برآمد کے گوشواروں میں کمی کی اطلاع دی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ’سیلابی صورت حال نے ٹیکس وصولیوں پر منفی اثر ڈالا ہے، تاہم اصل صورتحال کا اندازہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ کے بعد ہی واضح ہوگا‘۔
ان چیلنجز کے باوجود، جولائی میں ایف بی آر نے اپنے محصولات کا ہدف حاصل کر لیا اور 748 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 754 ارب روپے جمع کیے۔ تاہم اگلے مہینوں کے لیے مقرر کردہ زیادہ اہداف، جن میں ستمبر کا 1.3 ٹریلین روپے کا ہدف شامل ہے، موجودہ حالات میں ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔
حکام نے محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دنوں میں تعمیراتی سرگرمیوں کی بحالی متوقع ہے، جو ٹیکس وصولیوں میں بہتری کا سبب بن سکتی ہے۔
یاد رہے کہ موجودہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کو مجموعی طور پر 14,131 ارب روپے کا ٹیکس ہدف دیا گیا ہے، جس کے حصول کا انحصار معاشی بحالی کی رفتار اور آفات سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر ہوگا۔