حکومت پنجاب نے لاہور میں نیشنل سائبر کرائم اینڈ انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے فنکشنل رولز 2025 کا باضابطہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سائبر کرائمز کی روک تھام اور تحقیقات میں نمایاں پیش رفت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، لاہور میں سائبر کرائمز میں ملوث افراد کے بینک اکاؤنٹس، منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کو منجمد کرنے کا اختیار این سی سی آئی اے کو دے دیا گیا ہے، جو کہ اس شعبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مؤثر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
خصوصی یونٹس کا قیام
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ لاہور میں این سی سی آئی اے کے تحت مختلف خصوصی یونٹس قائم کیے جائیں گے، جن میں، احتساب یونٹ، ڈیجیٹل فرانزک یونٹ، میڈیا یونٹ، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ یونٹ، او ایس آئی این ٹی (اوپن سورس انٹیلیجنس) یونٹ شامل ہیں۔
ان یونٹس کے قیام سے نہ صرف تحقیقات کا عمل مضبوط ہوگا بلکہ پراسیکیوشن کے مراحل بھی مزید تیز اور شفاف بن سکیں گے۔
تیز تر پراسیکیوشن اور شفاف میڈیا کردار
نوٹیفکیشن کے مطابق، نئے فنکشنل رولز سے پراسیکیوشن کا عمل آسان اور تیز تر ہو جائے گا، جبکہ میڈیا کے کردار کو بھی مزید شفاف بنایا جائے گا تاکہ عوام کو درست اور بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔
این سی سی آئی اے فنکشنل رولز 2025 کا نفاذ لاہور میں سائبر کرائمز کے خلاف مربوط اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنائے گا۔ ان نئے اقدامات سے نہ صرف جرائم کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ عدالتی عمل اور عوامی آگاہی کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔