پاکستان میں کیلے کی ریکارڈ پیداوار، برآمدات میں زبردست اضافے کا امکان

پاکستان میں کیلے کی ریکارڈ پیداوار، برآمدات میں زبردست اضافے کا امکان

پاکستان میں کیلے کی پیداوار 25-2024 کے سیزن میں ریکارڈ 3 لاکھ 17 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو پچھلے 15 سالوں میں دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور زرعی شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق  2010-11 میں کیلے کی پیداوار صرف 1 لاکھ 39 ہزار ٹن تھی، مگر خاص طور پر گزشتہ 5 سالوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے کیلے کو ملک کی تیزی سے بڑھنے والی فصل بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں سیلاب سے سپلائی چین متاثر، مہنگائی کا خطرہ بڑھ گیا

سب سے نمایاں اضافہ 22-2021  میں ہوا، جب پیداوار ایک سال میں 50 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 1 لاکھ 42 ہزار ٹن سے 2 لاکھ 16 ہزار ٹن تک پہنچ گئی۔ اس کے بعد 23-2022 میں یہ پیداوار 2 لاکھ 92 ہزار ٹن، 24-2023 میں 3 لاکھ 11 ہزار ٹن اور اب 25-2024 میں عارضی طور پر ریکارڈ 3 لاکھ 17 ہزار ٹن تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ تیزی سے اضافہ اس وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ کاشتکاروں نے روایتی فصلوں کے بجائے کیلے کی طرف رجوع کیا ہے، کیونکہ مارکیٹ میں اس کی مانگ زیادہ ہے اور منافع بھی بہتر مل رہا ہے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے پیٹرن ان چیف وحید احمد نے کہا ہے کہ ’ کیلے کی پیداوار میں یہ اضافہ اس کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے، لیکن عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کو ایک مکمل ویلیو چین بنانی ہوگی، جس میں کاشت، پراسیسنگ، پیکجنگ اور ترسیل شامل ہو  تاکہ فصل کے ضیاع کو کم کیا جا سکے، معیار بہتر ہو اور کاشتکاروں کی آمدنی بڑھے‘۔

تاہم، کیلے کی اس تیزی سے بڑھتی ہوئی پیداوار کے باوجود، پاکستان کا حصہ عالمی 14 ارب ڈالر کے کیلے کے کاروبار میں نہایت کم ہے، جہاں برآمدات کی مالیت صرف 2 کروڑ 74 لاکھ ڈالر ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معیار کے کیلے برآمد کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کارپوریٹ فارمز، جدید پیک ہاؤسز اور سرکاری سرپرستی کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستانی معیشت کیلئے اچھی خبر،ایشیائی ترقیاتی بینک ریکوڈک منصوبے کیلئے 41 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا

سندھ سے تعلق رکھنے والے کیلا کاشتکار، برآمد کنندہ اور پراسیسر جنید حیدر شاہ نے اس تبدیلی کا سہرا نئی اقسام کے کیلے کو دیا۔ 7 سال پہلے فی ایکڑ آمدنی صرف ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے تھی، جو اب تقریباً 5 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے،۔ انہوں نے بتایا کہ ’نئی اقسام فنگس سے محفوظ ہیں، زیادہ عرصے تک تازہ رہتی ہیں، اور پرانی اقسام کے مقابلے میں کہیں زیادہ منافع بخش ہیں‘۔

جنید شاہ کے مطابق اب کیلا آم سے بھی زیادہ منافع بخش فصل بن چکا ہے اور اس کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

پیداوار، منافع اور برآمدات میں مسلسل اضافے کے ساتھ، کیلا پاکستان کی زرعی معیشت میں ایک اہم مقام حاصل کرنے جا رہا ہے، بشرطیکہ ملک اس کی کوالٹی کنٹرول اور عالمی منڈی تک رسائی پر سنجیدگی سے کام کرے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *