پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں تباہ کن سیلاب سے تقریباً 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں حالیہ سیلابی صورتحال کو ’غیر معمولی‘ اور ’تباہ کن‘ قرار دیا۔
اتوار کو پریس بریفنگ کے دوران مریم اورنگزیب نے کہا کہ صوبائی حکومت کی مربوط کوششوں کے باعث بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان روکنے میں مدد ملی۔ کہیں کوئی غفلت نہیں برتی گئی جس کے باعث جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے بروقت بشمول انسداد تجاوزات اقدامات اور فیصلوں کو اس کا کریڈٹ جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 7 لاکھ 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے 3 لاکھ افراد اس وقت ریلیف کیمپوں میں موجود ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے 1 لاکھ 15 ہزار افراد کو کشتیوں کے ذریعے بچایا، جبکہ 5 لاکھ سے زیادہ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ریسکیو آپریشنز میں ڈرونز اور تھرمل سرویلنس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس اور موبائل کلینکس فعال ہیں، جبکہ عوام کو بروقت معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک خصوصی فلڈ میڈیا روم قائم کیا گیا ہے۔
مریم اورنگزیب نے متاثرہ خاندانوں کی مکمل مدد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ’ہم نقصانات کا مکمل جائزہ لیں گے اور متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا‘۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو موسمیاتی تبدیلی کا ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئندہ ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر 40 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
لاہور میں بارش کا مجموعی حجم 100 ملی میٹر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اگرچہ دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
وزیر نے اس قومی سانحے سے نمٹنے کے لیے تمام طبقات اور اداروں سے یکجہتی اور تعاون کی اپیل کی اور کہا کہ حکومت امدادی سرگرمیوں میں مکمل طور پر متحرک ہے۔