لاہور ہائی کورٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں وفاقی حکومت کی پالیسی کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قیمتوں میں بار بار اضافہ عوام کے بنیادی حقوق کے منافی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے جمع کروائی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافوں نے مہنگائی کے طوفان کو مزید تیز کر دیا ہے،درخواست گزاروں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ عام آدمی کی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔
ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خورونوش سمیت دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے شدید مشکلات کا شکار ہیں،درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کا کوئی واضح اور شفاف طریقہ کار سامنے نہیں لایا جا رہا، جس سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔
درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جو پالیسی سازی میں عدم تسلسل کو ظاہر کرتا ہے،درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے نہ صرف معاشی دباؤ میں اضافہ کیا بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ آئین کے آرٹیکل 9، 14، 18، 23 اور 24 کی خلاف ورزی ہے، جو شہریوں کو زندگی، عزت، روزگار اور ملکیت کے حقوق فراہم کرتے ہیں۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حالیہ اضافے کو غیر آئینی قرار دیا جائے اور حکومت کو پابند کیا جائے کہ وہ قیمتوں کے تعین کے لیے ایک جامع، شفاف اور منصفانہ نظام وضع کرے، تاکہ عوام کو مستقل بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔