’سوادیشی‘ نعرہ محض فریب، مودی سرکار کی ناقص معاشی پالیسیوں سے برآمدی معیشت مفلوج، دی وائر کی اہم رپورٹ

’سوادیشی‘ نعرہ محض فریب، مودی سرکار کی ناقص معاشی پالیسیوں سے برآمدی معیشت مفلوج، دی وائر کی اہم رپورٹ

نریندر مودی کی حکومت کی پالیسیوں کے باعث بھارت کی برآمدی معیشت شدید بحران سے دوچار ہو چکی ہے۔

معروف بھارتی جریدے ’دی وائر‘ کی تازہ رپورٹ کے مطابق حکومت زمینی حقائق سے نظریں چراتے ہوئے ’سوادیشی‘ اور ’میڈ ان انڈیا‘ جیسے کھوکھلے نعروں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ زمینی سطح پر صنعتی کارکنوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے۔

امریکی پالیسیوں سے بھارتی صنعت کو جھٹکا

دی وائر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی درآمدی پالیسیوں اور ٹیرف کے اثرات نے بھارت کی محنت کش صنعتوں خصوصاً ٹیکسٹائل، چمڑے، جھینگا (شرمپس) اور زیورات کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے لاکھوں بھارتی مزدوروں کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔

’سوادیشی‘ نعرہ ایک قوم پرستانہ ہتھکنڈہ

مودی حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا ’سوادیشی‘ نعرہ، جو کہ خود انحصاری کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، درحقیقت قوم پرستی کو ابھارنے کی ایک سیاسی چال کے سوا کچھ نہیں۔ دی وائر کے مطابق متاثرہ مزدور طبقے کے لیے نہ تو کوئی فوری ریلیف پلان موجود ہے اور نہ ہی کوئی مؤثر پالیسی ہے۔

رگھورام راجن کا اہم سوال

سابق گورنر ریزرو بینک آف انڈیا رگھورام راجن نے حکومت سے ایک اہم سوال کیا ہے کہ ’روسی تیل سے حاصل ہونے والے منافع کا کچھ حصہ ان محنت کشوں کو کیوں نہیں دیا جاتا، جو امریکی ٹیرف سے متاثر ہوئے ہیں‘؟

یہ بھی پڑھیں:دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی کی صحافی کَرن تھاپر کو دیئے گئے انٹرویو میں بھارتی جہاز گرنے کی تصدیق کرنے پر ’’دی وائر‘‘ کا یوٹویب چینل بلاک

راجن کے مطابق، حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کمزور طبقات کو فوری ریلیف دے اور امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے ذریعے ان کے حق میں مؤثر اقدام کرے۔

عالمی سطح پر تنہائی کا شکار

دی وائر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مودی سرکار کی پالیسیوں نے بھارت کو عالمی معاشی نظام میں تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ برآمدی صنعتیں مقامی منڈی سے وہ قیمتیں حاصل نہیں کر سکتیں جو انہیں سہارا دے سکیں، جب کہ عالمی منڈی میں بھارتی مصنوعات مسابقتی برتری کھو چکی ہیں۔

’میڈ ان انڈیا‘ منصوبہ ناکامی کی مثال

مودی حکومت کا ’میڈ ان انڈیا‘منصوبہ بھی بڑی حد تک ناکامی کا شکار ہو چکا ہے۔ دی وائر کے مطابق، یہ منصوبہ نہ تو روزگار پیدا کر سکا اور نہ ہی بھارت کی صنعتی بنیاد کو مستحکم کر سکا۔ یہ صرف ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔

زمینی حقیقت اور سیاسی بیانیہ میں تضاد

حکومت کے قوم پرستانہ بیانات اور زمینی حقیقت میں واضح تضاد سامنے آ چکا ہے۔ جب مزدور، کسان، اور صنعتیں بحران کا شکار ہوں، تو ’خود انحصاری‘ اور’سوادیشی‘ جیسے نعرے صرف عوام کو بہلانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:برطانیہ میں سکھ کارکن اوتار سنگھ کھندہ کی پراسرار موت، فرانزک ماہر ین کا زہر دیئے جانے کا انکشاف، خاندان کا انکوائری کا مطالبہ

بھارت کو درکار ہے ایک حقیقت پسند معاشی پالیسی، نہ کہ سیاسی نعرے بازی۔ سوال یہ ہے کہ ’کیا مودی سرکار اس چیلنج کا سامنا کرنے کو تیار ہے‘؟

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *