پنجاب حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت اقدامات کے بعد گندم کی فی من قیمت میں 800 روپے کمی ہوگئی ہے، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب سلمیٰ بٹ کا کہنا ہے کہ سیلاب کی آڑ میں مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے اور پنجاب میں گندم کی کوئی کمی نہیں ہے، صوبے کے پاس اگلے سال تک کے لیے کافی گندم کا اسٹاک موجود ہے۔
سلمیٰ بٹ نے مزید بتایا کہ سیلاب کا گندم کی قیمتوں میں اضافے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ کچھ عناصر نے سیلاب کے بہانے گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر قانونی اضافہ کیا، پنجاب میں تقریباً ڈھائی لاکھ ٹن ڈیکلئیر شدہ اسٹاک موجود ہے، جو آئندہ فصل آنے تک پورے صوبے کے لیے کافی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں اڑھائی لاکھ ٹن گندم مارکیٹ میں برآمد کی جا چکی ہے اور وزیراعلیٰ کے نوٹس اور فوری اقدامات کے بعد فی من گندم کی قیمت میں 800 روپے کی کمی دیکھی گئی ہے
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن کے بعد ان کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ گندم کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔