پی ٹی آئی کا ‘مشن نور’، حلیم عادل شیخ بھی برس پڑے، سخت ردِعمل سامنے آ گیا

پی ٹی آئی کا ‘مشن نور’، حلیم عادل شیخ بھی برس پڑے، سخت ردِعمل سامنے آ گیا

‘پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما حلیم عادل شیخ نے سوشل میڈیا پر جاری مہم ‘مشن نور’ کی مخالفت کرتے ہوئے اس مہم کے عنوان کو فوری طور پر تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اذان ضرور دی جائے گی، لیکن قادیانیت سے منسلک کسی بھی عنوان یا اصطلاح کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔

ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر جاری اپنے پیغام میں حلیم عادل شیخ نے لکھا کہ ‘ہمیں ہے حکمِ اذان لا الہ الا اللہ، اذان ضرور دی جائے گی ان شا اللہ، مگرنام تبدیل کر لیا جائے۔’

‘مشن نور’ کو قادیانی اصطلاح قرار

حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ ‘مشن نور’ کا نام متنازعہ ہے اور اس کا قادیانیت سے گہرا تعلق ہے، اس لیے اس عنوان کے تحت کسی بھی سیاسی یا روحانی سرگرمی کو فروغ دینا مناسب نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’اذان ضرور دیں گے، مگر مشن نور کے نام سے نہیں۔ ہمیں ہے حکمِ اذان، لا الہ الا اللہ — کے نام سے دیں گے۔’

قادیانیت سے جُڑا پس منظرحلیم عادل کی وضاحت

اپنی ٹویٹ میں حلیم عادل شیخ نے تفصیل سے وضاحت کی کہ کس طرح “مشن نور” اور “20 ستمبر” کی تاریخ قادیانیت کی ابتدائی قیادت اور نیٹ ورکس سے جُڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کے بعد جو پہلا خلیفہ بنا وہ مولوی حکیم نورالدین تھا۔ حکیم نورالدین نے قادیانیت کو منظم انداز میں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس نے اپنی تبلیغی سرگرمیوں کو ‘نور مشن’ یا ‘مشن نور’ کے نام سے منسوب کیا، جو آج بھی قادیانی نیٹ ورک میں استعمال ہوتا ہے۔ قادیانی جماعت کے متعدد ادارے، رسائل اور اسکولز ‘نور’ کے نام پر چلتے ہیں۔

20 ستمبر کی اہمیت

حلیم عادل شیخ نے بتایا کہ 20 ستمبر بھی قادیانی تاریخ میں روحانی کامیابی اور مشن کے احیاء کے دن کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے اس دن ان کی ایک بڑی عبادتگاہ یا مرکز کا افتتاح ہوا تھا۔ قادیانی لٹریچر میں اس دن کو ایک مبارک دن کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

نام کی تبدیلی ایمان کا تقاضا

انہوں نے زور دیا کہ چونکہ ‘مشن نور’ اور ’20 ستمبر’ دونوں قادیانیت کی علامتی پہچان رکھتے ہیں، اس لیے پی ٹی آئی جیسی اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کی داعی جماعت کو ان حوالوں سے کلی طور پر اجتناب برتنا چاہیے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ‘ایمان کا تقاضا ہے کہ ایسے کسی بھی عمل سے پرہیز کیا جائے جو ہمارے عقیدے اور جماعت کی شناخت پر حرف ڈالے۔’

اس سے قبل پی ٹی آئی کے ہی سینئر رہنما علی محمد خان نے بھی ‘مشن نور’ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے تحریک انصاف کا باضابطہ پروگرام نہ ہونے کا اعلان کیا تھا، اور قادیانیت سے اس کے ممکنہ ربط پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

‘مشن نور’ مہم نہ صرف سوشل میڈیا پر شدید بحث کا باعث بن گئی ہے، بلکہ اب پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بھی اسے عوامی سطح پر مسترد کر رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس مہم کا نام تبدیل کیا جائے گا یا اس پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *