پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر ترین رہنما اور سابق صدرِ مملکت ڈاکٹرعارف علوی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ’مشن نور‘ نامی مہم کی مخالفت کر دی ہے۔ پہلے اس مہم کی حمایت میں ایک پیغام جاری کرنے کے بعد، انہوں نے متنازع پس منظر سامنے آنے پر اپنی پوسٹ فوری طور پر ڈیلیٹ کر دی اور اپنے مؤقف میں واضح تبدیلی کی۔
ڈاکٹر عارف علوی نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’میں نے 20 ستمبر کو 9 بجے اذان دینے والی پوسٹ اِس لیے ڈیلیٹ کردی ہے کہ اِس مشن کا نام اور پس منظر متنازع ہے۔ میرا عقیدہ اور وابستگی ہمیشہ واضح رہی ہے کہ ہم عاشقانِ رسول ﷺ ہیں، ختمِ نبوت ہمارے ایمان کا جزوِ لازم ہے اور ہم ہمیشہ مدنی ریاست اور اتباعِ سنتِ نبویﷺ کے پیروکار رہے ہیں‘۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ 20 ستمبر کو اذان دینے کی تجویز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی طرف سے سامنے آئی تھی، جو کہ ایک پُرامن علامتی احتجاجی عمل کے طور پر دی گئی تھی۔ اس کا مقصد آئینی بالادستی، جمہوریت کی بحالی اور عوامی شعور کی بیداری تھا۔
’تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے احتجاجی تحریک کے سلسلے میں جو سفارشات مرتب کی تھیں، اُن میں ایک تجویز اذان دینے کی بھی شامل تھی اور اس حوالے سے مختلف ٹی وی پروگراموں میں بھی اس کا ذکر ہوا۔ کب تاریخ آتی ہے اُس کا ہمیں انتظار رہے گا‘۔
مشن نور کی مخالفت کیوں؟
مشن نور کے عنوان اور اس کی تاریخ (20 ستمبر) پر سوشل میڈیا اور مذہبی حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق ’ نور‘ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک مقدس نام ہے، جسے کسی سیاسی مہم کے ساتھ جوڑنا حساسیت کا باعث بن سکتا ہے۔
20ستمبر وہ تاریخ ہے جب 1948 میں قادیانی تنظیم نے ربوہ (موجودہ چناب نگر) میں اپنا عالمی مرکز قائم کیا تھا، جس کی وجہ سے اس دن کو قادیانی عقائد سے جوڑا جاتا ہے۔
بعض حلقے کہتے ہیں کہ ’مشن نور‘ کی اصطلاح قادیانیوں کے ایک مرکزی کردار حکیم نورالدین سے مشابہت رکھتی ہے، جو مرزا غلام احمد قادیانی کا قریبی ساتھی تھا۔
پارٹی قیادت میں مخالفت کی لہر
ڈاکٹر عارف علوی سے قبل پی ٹی آئی کے ایک اور اہم رہنما علی محمد خان بھی اس مہم کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی اصطلاحات اور تاریخیں نہ صرف مذہبی طور پر حساس ہیں بلکہ اس سے پی ٹی آئی کی شناخت اور نظریاتی وابستگی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
مہم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف اذان کے ذریعے ایک پُرامن اور علامتی آواز اٹھانے کی کوشش ہے، جو کسی قسم کی مذہبی یا سیاسی وابستگی سے آزاد ہے۔ ان کے مطابق، اس کا مقصد قوم میں امید، اتحاد اور بیداری پیدا کرنا ہے۔ تاہم، قیادت کی مخالفت کے بعد اس مہم کو شدید دھچکا لگا ہے اور کئی افراد اپنی حمایت واپس لے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق عارف علوی جیسے سینیئر رہنما کی طرف سے پوسٹ ڈیلیٹ کرنا اور کھلے عام اس مہم سے لاتعلقی اختیار کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس معاملے میں کسی بھی قسم کی مذہبی الجھن سے بچنا چاہتی ہے۔ مذہبی معاملات میں حساسیت کا دھیان نہ رکھنا نہ صرف عوامی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے بلکہ پارٹی کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔