امن کا نوبل انعام وینز ویلا کی ماریہ کورینہ کے نام

امن کا نوبل انعام وینز ویلا کی ماریہ کورینہ کے نام

امن کا نوبل انعام وینز ویلا کی ماریہ کورینہ کے نام  رہا انہیں یہ انعام وینزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے فروغ کے لیے ان کی انتھک جدوجہد اور آمریت سے جمہوریت کی جانب ایک منصفانہ اور پُرامن انتقالِ اقتدار کی کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

نوبل کمیٹی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وینزویلا میں جمہوریت کی تحریک کی رہنما کے طور پر ماریہ کورینہ ماچادو لاطینی امریکا میں حالیہ دور کی شہری جرات کی سب سے نمایاں مثالوں میں سے ایک ہیں۔

ماچادو ایک ایسی متحدہ رہنما کے طور پر سامنے آئیں جنہوں نے ماضی میں تقسیم شدہ اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ایسی اپوزیشن جو آزادانہ انتخابات اور نمائندہ حکومت کے مطالبے پر متفق ہوئی۔

کمیٹی کے مطابق یہی وہ بنیادی اصول ہے جو جمہوریت کی روح میں پوشیدہ ہے  مختلف رائے رکھنے کے باوجود عوامی اقتدار کے اصول کا دفاع کرنا۔

ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں جمہوریت خطرے میں ہے اس مشترکہ بنیاد کا تحفظ پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وینزویلا ایک زمانے میں ایک نسبتاً خوشحال اور جمہوری ملک تھا  لیکن اب وہ ایک ظالمانہ آمرانہ ریاست میں بدل چکا ہے جو انسانی اور معاشی بحران کا شکار ہے۔

اکثریت شدید غربت میں زندگی گزار رہی ہے جبکہ چند افراد عیش و عشرت میں ہیں  ریاستی مشینری اپنے ہی شہریوں کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے  اور تقریباً 80 لاکھ افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اپوزیشن کو انتخابات میں دھاندلی، قانونی مقدمات اور قید و بند کے ذریعے منظم طور پر دبایا جا رہا ہے ماچادو نے دو دہائی قبل سوماتے نامی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی  جو جمہوری ترقی کے لیے کام کرتی ہے۔

انہوں نے کہا تھا یہ گولیوں کے بجائے بیلٹ کا انتخاب تھا  تب سے وہ عدلیہ کی آزادی، انسانی حقوق، اور عوامی نمائندگی کے لیے آواز بلند کرتی رہی ہیں۔2024 کے صدارتی انتخابات سے قبل وہ اپوزیشن کی امیدوار تھیں، لیکن حکومت نے ان کی نامزدگی کو روک دیا۔

اس کے بعد انہوں نے ایک اور اپوزیشن رہنما ایدموندو گونزالس اوروتیا کی حمایت کی لاکھوں رضاکار مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود انتخابات کی نگرانی کے لیے متحد ہوئے تاکہ ووٹنگ شفاف ہو خطرات، گرفتاریوں اور تشدد کے باوجود عوام نے ووٹ گنتی کی نگرانی کی اور ثبوت محفوظ کیے تاکہ حکومت نتائج میں ردو بدل نہ کر سکے۔

پوزیشن کی یہ اجتماعی اور پُرامن جدوجہد جمہوریت کی ایک شاندار مثال بنی۔ جب اپوزیشن نے شفاف ووٹ گنتی کے نتائج عالمی سطح پر جاری کیے جن سے واضح ہوا کہ وہ انتخابات جیت چکی ہے   تو حکومت نے ان نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا اور
اقتدار پر قابض رہی۔نوبل کمیٹی کے مطابق جمہوریت دیرپا امن کے لیے بنیادی شرط ہے آج دنیا بھر میں جمہوری اقدار پسپا ہو رہی ہیں اور آمریتیں بڑھ رہی ہیں۔ 2024 میں تاریخ کے سب سے زیادہ انتخابات ہوئے، مگر ان میں سے کم ہی آزاد اور منصفانہ تھے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *