لاہور، مذہبی جماعت اور پولیس کے درمیان تصادم, نوجوان ایس ایچ او مرید کے جاں بحق ہو گئے، پنجاب پولیس

لاہور، مذہبی جماعت اور پولیس کے درمیان تصادم, نوجوان ایس ایچ او مرید کے جاں بحق ہو گئے، پنجاب پولیس

لاہور مریدکے میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاج اور لانگ مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے نتیجے میں ایس ایچ او فیکٹری ایریا، شہزاد جاں بحق ہو گئے جبکہ 17 پولیس اہلکار اور رینجرز کے 4 جوان زخمی ہوئے ہیں۔

مریدکے تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، جھڑپوں میں ٹی ایل پی کے کم از کم 6 کارکن جاں بحق جبکہ 35 سے 49 کے درمیان کارکن زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ شدید زخمیوں کو لاہور منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس کو دھمکیاں دینے کامعاملہ ،ٹی ایل پی کےنائب امیر گرفتار

پنجاب کے مطابق پولیس اور رینجرز نے مشترکہ طور پر راستوں کو کلیئر کرنے کی کوشش کی اس دوران جی ٹی روڈ، جو کئی گھنٹوں سے بلاک تھا، مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے اور ٹریفک بحال کر دی گئی ہے۔ فورسز کی بھاری نفری علاقے میں موجود ہے اور صورت حال کو مکمل کنٹرول میں قرار دیا جا رہا ہے۔

پنجاب پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک اور بہادر جوان فرض کی راہ پر قربان ہو گیا ہے، ایس ایچ او فیکٹری ایریا شیخوپورہ شہزاد نواز نے امن و امان کے قیام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے دوران ملک کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔

بیان کے مطابق مسلح جتھوں کی فائرنگ سے ایس ایچ او فیکٹری ایریا شہزاد نواز فرض پر قربان ہو گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے شہزاد نواز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ ’مسلح جتھوں کو امن و امان میں خلل کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔ شہید کے خاندان کی فلاح و بہبود کا ہر ممکن خیال رکھا جائے گا‘۔

ذرائع کے مطابق، جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب ٹی ایل پی کے کارکنوں نے حکومت سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے لانگ مارچ کا آغاز کیا اور مریدکے کے مقام پر پولیس کی جانب سے انہیں روکنے کی کوشش کی گئی۔ دونوں جانب سے پتھراؤ، آنسو گیس کا استعمال کیا گیا ہے، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی، پی ٹی سی ایل نے وجہ بتا دی

ضلعی انتظامیہ کے مطابق، امن و امان کی صورت حال پر قابو پا لیا گیا ہے اور علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی شناخت کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور امن و امان قائم رکھنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *