پاکستان کے وکٹ کیپر بیتسمین محمد رضوان کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سے ہٹا کر شاہین شاہ کو کپتان کیوں بنایا گیا سابق کرکٹرز نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے۔
قومی ون ڈے ٹیم کی قیادت محمد رضوان سے واپس لے کر شاہین شاہ کو اس کی کمان سونپ دی گئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس فیصلے نے شائقین کرکٹ کے ساتھ سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے اور ایک سابق کپتان نے تو اس کی وجہ بھی بتا دی ہے۔
پاکستان کے مایہ ناز وکٹ کیپر اور سابق کپتان راشد لطیف نے ایک پوڈکاسٹ میں محمد رضوان کو قیادت سے ہٹانے کا ذمہ دار ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو قرار دیا اور کہا کہ رضوانکو اس لیے کپتانی سے ہٹایا گیا کہ اس نے غزہ کے مظلوم مسلمانوں اور فلسطین کی علی الاعلان حمایت کی تھی۔
راشد لطیف نے کہا کہ محمد رضوان نے فلسطین کا جھنڈا پکڑا اور ڈریسنگ روم میں مذہبی روایات کو متعارف کرایا جو ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو پسند نہ آیا۔
سابق کپتان نے سوال اٹھایا کہ رضوان نے فلسطین کا جھنڈا کیا اٹھایا آپ نے اسے کپتانی سے ہی ہٹا دیا؟ اب یہ سوچ آ گئی ہے کہ اسلامی ملک میں غیر اسلامی کپتان آئے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی انضمام الحق، محمد یوسف جیسے مذہبی رجحان والے کپتان رہے لیکن غیر ملکی کوچ رچرڈ پائی بس کو تو کوئی اعتراض نہ ہوا۔
راشد لطیف نے کہا کہ ہیسن ڈریسنگ روم سے ایسی ثقافت کو ختم کرنا چاہتا ہے تاہم اس کے ساتھ صرف پانچ یا چھ افراد ہیں، جو اس فیصلے میں شامل ہیں۔
شاہین آفریدی ون ڈے ٹیم کے کپتان مقرر
واضح رہے کہ محمد رضوان نے فلسطینی مسلمانوں سے کھل کر یکجہتی کا اظہار کیا۔ 2023 میں ون ڈے ورلڈ کپ میں سری لنکا کے خلاف جیت کو فلسطینیوں کے نام کیا تھا جب کہ پی ایس ایل میں اپنی فرنچائز کی جانب سے کھیلتے ہوئے ہر چکے اور وکٹ کے بدلے ایک لاکھ روپے فلسطین کے لیے گرانٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔