وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اہم ملاقات کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال اور ایندھن کی سپلائی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ عالمی بحران کے پیشِ نظر حکومت نے ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے لیے فوری پالیسی پر اتفاق کیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ، پیرا فورس اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ پٹرول پمپس اور سپلائی چین کی چوبیس گھنٹے نگرانی کریں۔ وزیراعلیٰ نے خاص طور پر زرعی مقاصد کے لیے ڈیزل کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا ہے تاکہ فصلوں کو نقصان نہ پہنچے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے دو ٹو ک انداز میں انتظامیہ کو واضح کیا کہ عوام کی مشکلات برداشت نہیں کی جائیں گی:”پٹرول پمپس پر عوام کو قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی کسی کو مقررہ نرخوں سے ایک روپیہ بھی زائد وصول کرنے کی اجازت دی جائے گی۔”
ایک طرف جہاں پنجاب میں انتظامیہ متحرک ہے، وہیں دوسری جانب ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہنگامی اقدامات دیکھنے کو مل رہے ہیں: سندھ اور بلوچستان: دونوں صوبوں میں تمام سی این جی (CNG) اسٹیشنز غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ وقت ثابت قدمی دکھانے کا ہے اور معاشی تحفظ کے لیے مشکل فیصلے ناگزیر ہو۔
مزید پڑھیں: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع، نوٹیفکیشن جاری

