ستمبر کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 37 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی درخواست پر نیپرا میں سماعت مکمل ہو گئی۔ منظوری کی صورت میں ملک بھر کے بجلی صارفین کو مجموعی طور پر تقریباً ساڑھے چار ارب روپے کا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
نیپرا میں سماعت ممبر لیگل آمنہ احمد کی سربراہی میں ہوئی، جس میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔ سی پی پی اے حکام نے اعتراف کیا کہ ستمبر کے دوران ملک میں سولرائزیشن کے باعث بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ان کے مطابق دن کے وقت سورج کی توانائی کے زیادہ استعمال کے سبب بجلی کی طلب 15 ہزار میگاواٹ تک محدود رہی جبکہ رات کے اوقات میں کھپت بڑھ کر 21 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی۔
سی پی پی اے حکام نے بتایا کہ بجلی کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث صنعتی شعبے میں بجلی کے استعمال میں کمی ریکارڈ کی گئی، اسی وجہ سے حکومت نے صنعتوں کے لیے خصوصی پیکیج متعارف کرایا ہے تاکہ صنعتی پیداوار میں اضافہ اور بجلی کی کھپت کو مستحکم کیا جا سکے۔
دوسری جانب نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) حکام نے انکشاف کیا کہ ستمبر میں پن بجلی کی پیداوار تخمینے سے نصف رہی۔ ان کے مطابق 8 ہزار میگاواٹ کے متوقع ہدف کے مقابلے میں صرف 4 ہزار میگاواٹ بجلی ہی پیدا کی جا سکی۔
صارفین کے تھر کول بلاک ٹو سے پیداوار اور کے الیکٹرک کے ریفرنس کاسٹ سے متعلق سوال پر سی پی پی اے حکام نے مؤقف اپنایا کہ وہ ہر پہلو سے تفصیلی جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
سماعت مکمل ہونے کے بعد نیپرا نے کہا کہ وہ جمع کرائے گئے اعداد و شمار اور ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گی۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت ہونے والی ممکنہ کمی کا اطلاق ملک بھر میں، کے الیکٹرک سمیت، تمام بجلی صارفین پر یکساں طور پر کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اگر نیپرا نے 37 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی تو صارفین کو آئندہ بلوں میں مجموعی طور پر ساڑھے چار ارب روپے سے زیادہ کا ریلیف فراہم کیا جائے گا، جو حالیہ مہنگائی کے تناظر میں عام صارفین کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت ثابت ہو سکتی ہے۔