وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سہیل آفریدی کی قیادت میں ریاستی اداروں پر حملوں کے ٹھوس شواہد سامنے آ گئے ہیں۔
اختیار ولی نے مینا آفریدی اور شفیع جان کی پریس کانفرنس پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے سہیل آفریدی کی مبینہ ویڈیوز کو جعلی قرار دینے کی مہم شروع کر دی ہے حالانکہ شواہد اس کے برعکس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فرانزک تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے آ جائیں گے ان کے بقول سہیل آفریدی کے خلاف الزامات محض سیاسی نہیں بلکہ سنگین نوعیت کے ہیں کیونکہ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ اپنے حلف اور آئینی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی پر کرپشن کے الزامات بھی عائد ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے خلاف سہیل آفریدی کا رویہ غیر سنجیدہ اور بلیک میلنگ کے مترادف ہے۔
اختیار ولی نے مزید کہا کہ اگر ایسے سنگین جرائم کو نظرانداز کر دیا گیا تو قانون کی بالادستی محض ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست اپنے اداروں پر حملہ کرنے والے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کرے گی اور قانونی کارروائی بلا امتیاز ہوگی۔