ملک میں سولر نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے سولر صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) نے نیپرا (NEPRA) سے درخواست دی ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ کے صارفین سے بھی فکسڈ چارجز وصول کیے جائیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے کمپنیوں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے، ان کمپنیوں نے نیپرا کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ سولر صارفین سے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے اخراجات کی مد میں فیس وصول کی جائے تاکہ مالی توازن برقرار رہے۔
وزارت توانائی نے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے کہا ہے کہ سولر صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے سے پاور کمپنیوں کو نظام کی لاگت پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ سولر توانائی کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے نیشنل گرڈ کی آمدنی میں کمی آ رہی ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے فکسڈ چارجز ناگزیر ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں بجلی کی طلب میں کمی اور گیس کی اضافی سپلائی جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں، جبکہ صارفین بجلی کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں سولر توانائی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
قبل ازیں حکومت نے سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کی کوشش کی تھی، جس کے تحت بجلی خریداری کی قیمت 10 روپے فی یونٹ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی تھی، لیکن عوامی دباؤ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے یہ تجویز مسترد کر دی تھی۔
نیپرا میں ہونے والی سماعت کے دوران میپکو اور گیپکو نے 2025-26 سے 2029-30 تک کے ملٹی ایئر ٹیرف کی درخواستوں پر بھی بات کی اور کہا کہ فکسڈ چارجز کے نفاذ سے ان کی مالی صورتحال مستحکم ہو جائے گی۔ تاہم پاور ڈویژن نے خبردار کیا کہ کیپیسٹی چارجز کا بوجھ نیشنل گرڈ کے صارفین پر منتقل ہو رہا ہے، جس سے ان کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
سماعت کے دوران نیپرا نے سولر صارفین کی ادائیگی میں تاخیر اور گیپکو کی غیرقانونی ایڈوانسڈ میٹرنگ انسٹالیشنز پر بھی تشویش ظاہر کی۔ میپکو نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 کے لیے 100 فیصد ریکوری ٹارگٹ حاصل کیا گیا، لیکن کچھ بل شدہ رقم بعد میں وصول کی جاتی ہے۔
حکومت نے حال ہی میں ایک تین سالہ رعایتی منصوبہ بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو کم نرخ پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ سولر سسٹمز کی طرف منتقلی کا رجحان کم کیا جا سکے اور نیشنل گرڈ کی طلب میں اضافہ ممکن ہو۔