امریکی حکومت نے ایک نیا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت موٹاپے اور ذیابیطس میں مبتلا غیر ملکی افراد کو امریکا کا ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر کے اپنے سفارت خانوں کو جاری ایک تازہ مراسلے میں واضح کیا ہے کہ اب موٹاپے یا ذیابیطس کے شکار افراد کو ویزا جاری کرنے میں سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
اس نئے فیصلے کے مطابق، جو افراد صحت کے ان معیاروں پر پورا نہیں اترتے، ان کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی جائیں گی ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد امریکی صحت کے نظام پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنا اور قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے۔
مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہے جو موٹاپے یا ذیابیطس کی وجہ سے امریکا کے طبی معیارات پر پورا نہیں اترتے، امریکی حکومت کے مطابق، ویزا کے عمل میں اس نئی پابندی سے ملک میں صحت کے وسائل پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی اور ملکی نظامِ صحت کو بہتر بنایا جا سکے گا۔
اس فیصلے نے بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ حاصل کر لی ہے اور امیگریشن کے حوالے سے مزید بحث کو جنم دیا ہے ، اس کی مخالفت کرنے والے افراد اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امیگریشن کے عمل میں امتیازی سلوک کی جانب ایک قدم ہے اور اس سے انسانیت کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہونے کا خطرہ ہے۔
ان کے مطابق، ایسے قوانین سے نہ صرف متاثرہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر امریکا کی امیگریشن پالیسی پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
امریکی حکام نے ابھی تک اس نئے قانون کے نفاذ کی کوئی حتمی تاریخ جاری نہیں کی ہے، اور اس کے عملی اثرات اور طریقہ کار کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
یہ واضح ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں ویزا کے عمل اور بین الاقوامی سفر پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، اور اس پر عوامی اور عالمی سطح پر مزید تجزیے اور بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔