سینیٹر فیصل واوڈا نے سینیٹ میں ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم بغیر کسی مخالفت کے متفقہ طور پر منظور کی گئی اور ایک بھی منفی ووٹ سامنے نہیں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ تین نکات پر بات کر رہے ہیں اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایوان میں مکمل اتفاق رائے پایا گیا،فیصل واوڈا نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے ترمیم پر 59 مرتبہ آواز لگائی لیکن کسی رکن نے اعتراض نہیں اٹھایا جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سب سیاسی جماعتیں اس عمل میں شریک تھیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بھی اس معاملے میں آن بورڈ تھی جو لوگ جھوٹی کہانیاں پھیلا کر عوام کو گمراہ کر رہے تھے وہ آج خود بے نقاب ہو گئے ہیں۔
سینیٹر واوڈا نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو نے اس عمل میں مثبت کردار ادا کیا اور انہیں سراہا جانا چاہیے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آج یہ بات سب پر واضح ہو گئی ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ عناصر ’’ڈرامے بازی‘‘ کر رہے تھے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ترمیم باآسانی پانی کی طرح‘‘ منظور ہو گئی۔
سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایوان میں مکمل اتفاق رائے پایا گیا،فیصل واوڈا نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے ترمیم پر 59 مرتبہ آواز لگائی لیکن کسی رکن نے اعتراض نہیں اٹھایا
ان کا کہنا تھا کہ ستائیسویں ترمیم کی منظوری پارلیمانی اتحاد اور سیاسی بلوغت کی علامت ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ملک کے مفاد میں فیصلے کیے جائیں تو تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کو ایک طرف رکھ سکتی ہیںفیصل واوڈا نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی قیادت جھوٹے بیانیوں اور پروپیگنڈے کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دے تاکہ عوامی اعتماد بحال ہو سکے۔