پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جس کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی ہے۔
زلزلہ پیما مرکز کی رپورٹ کے مطابق زلزلے کی گہرائی 125 کلومیٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز تاجکستان اور چین کا سرحدی علاقہ تھا۔ اگرچہ زلزلے کی شدت درمیانی درجے کی تھی، تاہم گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے اثرات وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
فالٹ لائنز اور علاقائی تاریخ
پاکستان کا شمالی حصہ اور وفاقی دارالحکومت جغرافیائی طور پر ایک ایسے خطے میں واقع ہیں جو زلزلوں کے لحاظ سے انتہائی حساس مانا جاتا ہے۔
تاجکستان، ہندوکش اور چین کے سرحدی علاقے اکثر و بیشتر زلزلوں کا مرکز رہتے ہیں کیونکہ یہاں ٹیکٹونک پلیٹس آپس میں ٹکراتی رہتی ہیں۔
ماضی میں 2005 اور 2015 کے تباہ کن زلزلوں کے بعد سے اسلام آباد میں بلند و بالا عمارتوں کی تعمیر میں زلزلہ پروف قوانین کو اہمیت دی جانے لگی ہے، لیکن تاجکستان کی جانب سے آنے والے جھٹکے مسلسل اس خطرے کی یاد دہانی کرواتے رہتے ہیں۔
زلزلے کی شدت اور ممکنہ خطرات
زلزلے کی گہرائی 125 کلومیٹر ہونا ایک مثبت پہلو ہے، کیونکہ جتنی زیادہ گہرائی ہوتی ہے، سطح زمین پر اس کی تباہ کاری اتنی ہی کم ہوتی ہے۔ 5.2 شدت کا زلزلہ اگر کم گہرائی پر ہوتا تو اس سے پرانی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو سکتا تھا۔
اسلام آباد میں حالیہ برسوں میں کثیر المنزلہ عمارتوں کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح کے درمیانی درجے کے جھٹکے ان عمارتوں کے اسٹرکچر اور سیفٹی آڈٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
چونکہ مرکز تاجکستان اور چین کا سرحدی علاقہ ہے، اس لیے خطے کے ممالک کے درمیان زلزلہ پیما معلومات کے بروقت تبادلے کا نظام مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بڑے خطرے سے پہلے الرٹ جاری کیا جا سکے۔