روسی صدر پیوٹن کا یورپ کو گیس سپلائی روکنے سے متعلق بڑا فیصلہ

روسی صدر پیوٹن کا یورپ کو گیس سپلائی روکنے سے متعلق بڑا فیصلہ

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپ کو گیس کی فراہمی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم فیصلہ کرتے ہوئے سپلائی لائنوں کی بندش کا اعلان کر دیا ہے ۔ 

تفصیلات کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک حالیہ اور تزویراتی بیان میں عالمی برادری بالخصوص یورپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے پیشِ نظر روس اب یورپ کو گیس کی فراہمی روکنے پر سنجیدگی سے غور کر سکتا ہے۔

صدر پیوٹن نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر یورپی یونین روسی گیس اور ایل این جی (LNG) پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کرتی ہے تو روس خاموش نہیں رہے گا بلکہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سپلائی معطل کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک کی جانب سے روسی تیل اور گیس پر پابندیاں لگانا خود ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے جبکہ روس کے لیے اب یہ زیادہ فائدہ مند ہے کہ وہ اپنی توانائی کی برآمدات کا رخ دیگر متبادل اور بڑی منڈیوں کی جانب موڑ دے جہاں ان کے وسائل کی بھرپور مانگ موجود ہے۔

جس نے عالمی منڈیوں اور یورپی دارالحکومتوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت روس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی توانائی کے وسائل کو قومی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرے گا اور جب تک عائد کردہ پابندیوں اور ادائیگیوں کے طریقہ کار پر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، گیس کی ترسیل معطل رہے گی۔

صدر پیوٹن کے اس اقدام کو بین الاقوامی سیاست میں ایک “ماسٹر اسٹروک” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے یورپ میں توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور یورپی ممالک اب متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اس فیصلے نے جہاں ایک طرف عالمی توانائی کی سیاست کے رخ کو تبدیل کر دیا ہے، وہیں دوسری طرف روس نے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ ایشیائی منڈیوں اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدوں کے ذریعے اپنی معیشت کو مزید مستحکم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید جانیئے: سابق سربراہ برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس کا ایران جنگ سے متعلق حیرت انگیز انکشاف

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *