امریکا، اسرائیل کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے، پڑوسی ممالک پر حملے نہیں کریں گے، ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان

امریکا، اسرائیل کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے، پڑوسی ممالک پر حملے نہیں کریں گے، ایرانی صدر کا دوٹوک اعلان

ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکا اور اسرائیل کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا اور ایرانی قوم اپنے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کو ایرانی عوام کے عزم اور حوصلے کو توڑنے کی خواہش دل میں ہی دفن کرنا پڑے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایرانی قوم نے ہمیشہ بیرونی دباؤ اور جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور آج بھی قوم اسی عزم اور حوصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کی دھمکیوں کے باوجود اسرائیل کے دفاع سے دستبردار نہیں ہوں گے: برطانوی وزیراعظم

صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران کے دشمن اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دباؤ، دھمکیوں یا فوجی کارروائیوں کے ذریعے ایرانی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتے ہیں تو انہیں اپنی یہ خواہش ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق ایرانی عوام آزادی، خودمختاری اور قومی وقار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں خطے کے پڑوسی ممالک کو یقین دہانی بھی کرائی کہ ایران کی جانب سے ان کے خلاف کسی قسم کی جارحیت یا میزائل حملہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا کسی بھی پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ایران ہمیشہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے حملوں کے دوران اگر کسی پڑوسی ملک کو نقصان پہنچا ہے تو ایران اس پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی پالیسی واضح ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ احترام اور باہمی تعاون کے اصولوں پر تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔

صدر پیزشکیان کے مطابق ایران کی عبوری قیادت کی کونسل نے اس بات کی منظوری دے دی ہے کہ پڑوسی ممالک کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا میزائل حملے نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اس وقت تک کسی بھی پڑوسی ملک کو نشانہ نہیں بنائے گا جب تک ان ممالک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں کی جاتی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اگر کسی ملک کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کی گئی تو ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ایسے حالات میں مناسب ردعمل دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:ایران پر دباؤ جاری رہا تو تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، روس کی سنگین نتائج کی دھمکی

انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر حالیہ عرصے میں ہونے والے حملوں نے خطے کی صورتحال کو انتہائی حساس بنا دیا ہے تاہم ایران اپنے دفاع کے ساتھ ساتھ علاقائی امن کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں بعض علاقوں میں دھماکوں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ ایرانی صدر کے اس بیان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیغام قرار دیا جا رہا ہے جس میں ایک جانب امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب پڑوسی ممالک کو اعتماد میں لینے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *