افغان طالبان کی دہلی دھماکے کی مذمت، اسلام آباد حملے پر خاموشی، کابل کا دہرا معیار، بھارت کیساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب

افغان طالبان کی دہلی دھماکے کی مذمت، اسلام آباد حملے پر خاموشی، کابل کا دہرا معیار، بھارت کیساتھ گٹھ جوڑ بے نقاب

افغان طالبان حکومت نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے دھماکے کی مذمت تو کی، مگر اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے پر مکمل خاموشی اختیار کر لی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کا یہ دہرا رویہ نہ صرف پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کابل انتظامیہ اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:استنبول مذاکرات، افغان طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ گیا، اعلیٰ سیکیورٹی ذرائع

منگل کو طالبان کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں نئی دہلی دھماکے کی مذمت کی، جس میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ بیان میں متاثرین کے اہلِ خانہ، بھارتی عوام اور حکومت سے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، ’افغانستان ایسے واقعات کی شدید مذمت کرتا ہے جو بے گناہ جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔‘

تاہم اسی روز اسلام آباد میں عدالتی کمپلیکس کے قریب ہونے والے ایک خودکش دھماکے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہوئے، لیکن طالبان حکومت کی جانب سے اس حملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پاکستانی سیکیورٹی حکام نے تصدیق کی کہ حملہ آور نے خودکش جیکٹ کے ذریعے دھماکا کیا، اور ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حملے کا ہدف سیکیورٹی اہلکار تھے۔

کسی بھی گروہ نے اسلام آباد دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور سرحد پار سے داخل ہوا تھا اور اس کے روابط ایسے گروہوں سے ہیں جو افغانستان کی سرزمین پر سرگرم ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان حکومت کا اسلام آباد حملے پر خاموش رہنا پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ کابل انتظامیہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں خاموش حمایت فراہم کر رہی ہے۔ ماہرین نے کہا کہ طالبان کا دہلی دھماکے پر اظہارِ افسوس اور اسلام آباد پر خاموشی اُن کے ‘دہرے معیار’ کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کی اعلیٰ قیادت کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے بارہا افغان طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگرد گروہوں کے استعمال سے روکیں، مگر عملی اقدامات کے بجائے کابل حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے۔‘

مزید پڑھیں:افغان طالبان اور بھارت کا گٹھ جوڑ بے نقاب، سابق افغان جنرل کے سنسنی خیز انکشافات

ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں ہونے والے حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی سطح پر بھی رابطہ کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر رہے ہیں۔

تجزیاتی حلقوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے بھارت کے ساتھ نرم رویہ اور پاکستان کے خلاف سرگرم گروہوں کی پشت پناہی اس امر کی غماز ہے کہ کابل انتظامیہ خطے میں بھارتی مفادات کے مطابق کردار ادا کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ’یہ بات اب کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ طالبان حکومت پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والی بھارتی پراکسیز کو دہشتگردانہ سرگرمیوں میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔‘

طالبان حکومت کا دہلی دھماکے پر اظہارِ افسوس اور اسلام آباد حملے پر خاموش رہنا ایک واضح تضاد ہے۔ اس رویے نے نہ صرف افغان حکومت کے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ کابل انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے بجائے علاقائی پراکسی سیاست میں الجھی ہوئی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *