16 نومبر سے پیٹرول کتنا سستا ہونیوالا ہے؟ خوشخبری آگئی

16 نومبر سے پیٹرول کتنا سستا ہونیوالا ہے؟ خوشخبری آگئی

بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس نے توانائی کے شعبے اور سرمایہ کاروں دونوں کو حیران کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں ابتدائی طور پر چار فیصد کی گراوٹ دیکھنے میں آئی، جس کے بعد یہ 60 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تاہم، بعد ازاں معمولی بہتری کے ساتھ قیمت 62 ڈالر فی بیرل پر واپس آ گئی۔

اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی دو ڈالر سے زائد کمی ہوئی اور یہ کاروبار کے اختتام پر 58.97 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔

ماہرین کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں یہ اچانک کمی اوپیک (OPEC) کی تازہ رپورٹ کے بعد سامنے آئی، جس میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2026 تک عالمی سطح پر تیل کی رسد اور طلب میں توازن پیدا ہو جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اوپیک پلس ممالک کی بڑھتی ہوئی پیداوار اس ممکنہ توازن کی بنیادی وجہ ہے ، اس پیش گوئی نے عالمی توانائی مارکیٹ میں ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے، جہاں سرمایہ کاروں نے سابقہ اندازوں کے برعکس اپنے فیصلے تبدیل کرتے ہوئے فروخت میں اضافہ کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اوپیک کی رپورٹ نے یہ عندیہ دیا ہے کہ مستقبل میں تیل کی پیداوار کی رفتار طلب کے مقابلے میں زیادہ رہ سکتی ہے، جس سے قیمتوں پر دباؤ برقرار رہے گا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف توانائی کی بڑی کمپنیوں کے شیئرز میں کمی دیکھنے میں آئی بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد پر بھی اثر پڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سونے کی ایک بار پھر اونچی اُڑان، قیمت میں 8300 روپےکا بڑا اضافہ

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیداوار کا سلسلہ اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو آئندہ برسوں میں تیل کی قیمتوں میں استحکام تو ممکن ہے، مگر بڑے پیمانے پر اضافہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب، جیو پولیٹیکل حالات، عالمی تجارتی پالیسیوں، اور توانائی کی طلب میں موسمی تبدیلیاں آئندہ مہینوں میں قیمتوں کے رجحان پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

اوپیک کی رپورٹ کے مطابق، تنظیم کے رکن ممالک بالخصوص سعودی عرب، روس، اور عراق نے پیداوار میں اضافے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ عالمی منڈی میں اپنا حصہ برقرار رکھا جا سکے۔ تاہم، تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر رسد میں اضافہ طلب سے زیادہ ہوا تو مارکیٹ میں ایک بار پھر قیمتوں کی جنگ شروع ہو سکتی ہے، جیسا کہ ماضی میں 2014 اور 2020 کے دوران دیکھا گیا تھا۔

توانائی ماہرین کے مطابق، قلیل مدت میں قیمتوں میں مزید کمی کا امکان موجود ہے، تاہم طویل مدت میں مارکیٹ کے استحکام کے لیے اوپیک پلس ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔

مزید پڑھیں:پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد عوام کیلئے ایک اور بری خبر

مجموعی طور پر، تیل کی عالمی منڈی اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے، جہاں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور مارکیٹ کے آئندہ چند ہفتوں کے اعدادوشمار اس کے اگلے رجحان کا تعین کریں گے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *