بھارتی کرکٹ ٹیم کی جیت پر شعیب اختر کا بڑا اعتراض، سوشل میڈیا پر نئی بحث، صارفین بھی بپھر گئے

 بھارتی کرکٹ ٹیم کی جیت پر شعیب اختر کا بڑا اعتراض، سوشل میڈیا پر نئی بحث، صارفین بھی بپھر گئے

سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر نے ٹی 20 عالمی کپ کے فائنل کے بعد بھارت کی کامیابی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے عالمی کرکٹ کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں کے درمیان ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

عالمی کپ کے فائنل میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو 96 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ یہ فیصلہ کن مقابلہ احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا جہاں ہزاروں شائقین نے میچ دیکھا۔ بھارت کی اس بڑی فتح کے بعد بھارتی ٹیم اور اس کے مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:شعیب اختر کس بولر کو اپنا ریکارڈ توڑتا دیکھنا چاہتے ہیں؟

تاہم میچ کے بعد شعیب اختر نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ عالمی کرکٹ کا نظام غیر متوازن نظر آتا ہے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ بالکل ایسے ہے جیسے کسی محلے میں ایک امیر بچہ باقی غریب بچوں کو کھیلنے کے لیے بلاتا ہے اور کہتا ہے آؤ کرکٹ کھیلتے ہیں، لیکن جیتوں گا میں ہی‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت بھی کچھ اسی طرح عالمی کرکٹ میں اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔ شعیب اختر کے مطابق 8 ٹیموں میں سے 4 رکھ لیتے ہیں، پھرانہی میں سے 3 کو آگے بلا لیتے ہیں اور آخر میں کہتے ہیں دیکھو میں جیت گیا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے نظام نے کرکٹ کے مقابلوں کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سابق فاسٹ بولر نے یہ بھی کہا کہ عالمی کرکٹ میں طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے اور چند بڑے ممالک کھیل کے فیصلوں پر زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کرکٹ کو حقیقی معنوں میں عالمی کھیل بنانا ہے تو تمام ٹیموں کو یکساں مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔

شعیب اختر کے اس بیان کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مداحوں کے درمیان شدید بحث شروع ہو گئی۔ کچھ شائقین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی کرکٹ میں واقعی چند بڑے ممالک کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان کے سابق مایہ ناز فاسٹ بولر شعیب اختر بڑی کرکٹ لیگ کا حصہ بن گئے

دوسری جانب کئی مداحوں نے بھارت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی ٹیم نے اپنی محنت اور بہترین کھیل کے باعث کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ٹیم کی کامیابی کو صرف نظام پر تنقید کے ذریعے کم نہیں کیا جا سکتا۔

اس ٹورنامنٹ کے دوران ایک اور پہلو بھی زیر بحث آیا کہ بھارت نے زیادہ تر میچز اپنے ہی ملک میں کھیلے۔ مشترکہ میزبانی کے باوجود صرف 1 میچ سری لنکا میں کھیلا گیا جبکہ سیمی فائنل اور فائنل سمیت اہم مقابلے بھی بھارت میں ہی منعقد ہوئے۔

واضح رہے  کہ اس طرح کے بیانات عالمی کرکٹ کے ڈھانچے اور میزبانی کے نظام پر بحث کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں عالمی کرکٹ کے منتظمین کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ مقابلوں کی میزبانی اور شیڈولنگ میں تمام ٹیموں کیلئے برابر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ کھیل کی ساکھ برقرار رہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *