اسٹیٹ بینک نے ڈالر خریدنے والوں کیلئے قوانین سخت کر دیے، جانئے نئی شرائط کیا ہیں؟

اسٹیٹ بینک نے ڈالر خریدنے والوں کیلئے قوانین سخت کر دیے، جانئے نئی شرائط کیا ہیں؟

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غیر ملکی کرنسی کی خریداری پر نئے پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کے تحت زیادہ تر ڈالر ٹرانزیکشنز کیش لیس سسٹم کی طرف منتقل ہو جائیں گی۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالرز کی خریداری کے حوالے سے نئے قواعد کے مطابق وہ پاکستانی شہری جو اپنی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں ڈپازٹ کے لیے غیر ملکی کرنسی خریدتے ہیں، اب نقد رقم حاصل نہیں کریں گے بلکہ رقم براہِ راست ایکسچینج کمپنی یا بینک سے خریدار کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔

ایسے افراد جو فارن کرنسی اکاؤنٹ نہیں رکھتے، وہ ڈپازٹ کے لیے نقد ڈالر خرید نہیں سکتے۔

ڈالر خریدتے وقت خریدار کو ایک چیک دیا جائے گا، جس کی کلیئرنس عموماً کم از کم پانچ دن میں ہوتی ہے، سوائے اس صورت کے کہ خریدار کا FCY اکاؤنٹ اسی بینک میں ہو، تب رقم کی منتقلی فوری ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں استحکام برقرار ، ڈالر کی قیمت میں کمی

اسٹیٹ بینک نے دستاویزات کے معیار کو بھی سخت کر دیا ہے، کسی بھی $500 سے زیادہ کی خریداری کے لیے بایومیٹرک تصدیق خریداری کا مقصد اور معاون دستاویزات لازمی ہیں، خاص طور پر سفر، تعلیم، حج اور عمرہ کے لیے۔

نئے قواعد سے بینک کے زیرِ انتظام ایکسچینج کمپنیوں کو فائدہ ہونے کی توقع ہے، جو پہلے ہی بینکنگ سسٹم کے اندر کام کر رہی ہیں۔

یہ پالیسی یورو اور پاؤنڈ کی ٹرانزیکشنز کو سست کر سکتی ہے، کیونکہ ان کرنسیوں کے لیے چیک کے ذریعے منتقلی میں 20، 25 دن لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نجی منی چینجرز کو بینک اکاؤنٹس میں نقد ڈالر رکھنے سے روکا گیا ہے، جس سے ان کی مارکیٹ میں لچک محدود ہو گئی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *