اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے غیر ملکی کرنسی کی خریداری پر نئے پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کے تحت زیادہ تر ڈالر ٹرانزیکشنز کیش لیس سسٹم کی طرف منتقل ہو جائیں گی۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالرز کی خریداری کے حوالے سے نئے قواعد کے مطابق وہ پاکستانی شہری جو اپنی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں ڈپازٹ کے لیے غیر ملکی کرنسی خریدتے ہیں، اب نقد رقم حاصل نہیں کریں گے بلکہ رقم براہِ راست ایکسچینج کمپنی یا بینک سے خریدار کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔
ایسے افراد جو فارن کرنسی اکاؤنٹ نہیں رکھتے، وہ ڈپازٹ کے لیے نقد ڈالر خرید نہیں سکتے۔
ڈالر خریدتے وقت خریدار کو ایک چیک دیا جائے گا، جس کی کلیئرنس عموماً کم از کم پانچ دن میں ہوتی ہے، سوائے اس صورت کے کہ خریدار کا FCY اکاؤنٹ اسی بینک میں ہو، تب رقم کی منتقلی فوری ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ میں استحکام برقرار ، ڈالر کی قیمت میں کمی

