امریکی و اسرائیلی جنگی طیاروں کی تہران میں شدید بمباری

امریکی و اسرائیلی جنگی طیاروں کی تہران میں شدید بمباری

امریکہ اور اسرائیل کے جنگی طیاروں کی تہران سمیت دیگر شہروں پر شدید بمباری جاری ہے ، اسرائیلی فوج نے تہران میں ایرانی لڑاکا طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اصفہان میں ایرانی بیلسٹک میزائل تنصیب کو نشانہ بنایا، ایران کی آب دوز سمیت متعدد بحری جہاز تباہ کرنے کے دعوے بھی کیے جارہے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایران کے اس بڑے فوجی کمپلیکس کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے جس میں تمام ایرانی سکیورٹی اداروں کے مرکزی دفاتر واقع ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائے ادرعی نے پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘پر اپنی ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ نشانہ بنائے گئے کمپلیکس میں پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈ کوارٹر، انٹیلیجنس اتھارٹی کا ہیڈ کوارٹر، باسیج کا ہیڈ کوارٹر، قدس فورس کا ہیڈ کوارٹر، داخلی سلامتی کی خصوصی فورسز کا ہیڈ کوارٹر، سائبر آپریشنز کے دفاتر اور داخلی سلامتی سے وابستہ سپورٹ یونٹ اور مظاہرے روکنے والے یونٹ کا ہیڈ کوارٹر شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کمپلیکس میں ایرانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے تمام شعبوں کے کمانڈ سینٹرز موجود ہیں اور وہاں حکومت کے فوجیوں کی سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں۔

6 روز سے جاری حملوں میں ایرانی شہدا کی تعداد 1045 ہوگئی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق اسرائیلی فضائیہ ایران پر 5 ہزار ٹن سے زیادہ گولا بارود برسا چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :آیت اللّٰہ خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیلی وزیر دفاع کی کھلی دھمکی

واضح رہے گزشتہ 28 فروری کی صبح اسرائیل نے ایران پر حملے کے آغاز کا اعلان کیا تھا ، امریکہ کے ساتھ مشترکہ اور وسیع پیمانے پر حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں مغربی اور وسطی ایران میں فضائی دفاعی نظام تباہ ہوا۔

تہران نے یکم مارچ کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع اور مسلح افواج کے چیف آف سٹاف عبدالرحیم موسوی کے جاں بحق ہونے کا اعلان کیا تھا، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور رہبرِ اعلیٰ کے مشیر علی شمخانی کے جاں بحق ہونے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔

امریکی صدر نے بعد میں کہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے پہلے دن تقریباً 40 اعلیٰ ایرانی رہنما مارے گئے،  ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ فوجی کارروائیاں ’پورے زور و شور کے ساتھ‘ اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک واشنگٹن کے تمام اہداف حاصل نہیں کر لیے جاتے۔

دوسری جانب ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک، جہاں کئی امریکی اڈے موجود ہیں،اس کے علاوہ عراق اور اردن کی طرف میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی تعداد چھوڑ کر جواب دیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *