پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سینٹرل کرم کے علاقوں مناتو اور مرزائی میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر 2 الگ الگ آپریشنز کرتے ہوئے 22 فتنہ الخوارج دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کا مقصد علاقے میں دہشتگرد عناصر کی سرگرمیوں کا خاتمہ اور شہری آبادی کو مستقبل کے خطرات سے محفوظ بنانا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ دہشتگرد مقامی آبادی کے قریب ایک گھر پر قبضہ کر کے چھپے ہوئے ہیں اور وہاں بارودی مواد بھی نصب کیا گیا ہے۔
اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے نہایت مؤثر، ٹارگٹڈ اور بروقت کارروائی کی۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران دہشتگردوں کی جانب سے نصب کردہ بارودی مواد پھٹ گیا، جس کے باعث گھر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔
فوجی کارروائی میں کسی مقامی شہری کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم چند سیکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں ضروری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک کے امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایسی کارروائیوں کی شدت مزید بڑھائی جائے گی۔
’قومِ پاکستان اور اس کے محافظ ادارے دہشتگردی کے اس فتنے کے مکمل خاتمے کے لیے یکجا ہیں اور آخری دہشتگرد کے انجام تک آپریشنز جاری رہیں گے‘۔