خیبر پختونخوا میں انسداد منشیات فورس نے مختلف کارروائیوں میں آئس، ہیروئن، چرس اور افیون کی 72 کلوگرام سے زیادہ مقدار ضبط کر کے 5 منشیات فروشوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
انسدادِ منشیات فورس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقوں علی مسجد، باڑا، جمرود اور پشاور میں انسداد منشیات فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں منشیات قبضے میں لے لی ہیں۔
ضلع خیبر کے مختلف علاقوں میں ’اینٹی ناکوٹکس( اے این ایف) نے گزشتہ چند دنوں میں 6 کامیاب کارروائیوں میں آئس، ہیروئن، چرس اور افیون کی 72 کلوگرام سے زیادہ مقدار ضبط کی ہے۔
کاروائی کے دوران 5 منشیات فروش بھی گرفتارکر لیے گئے ہیں، جس میں ایک سرکاری ملازم بھی شامل ہے۔ منشیات 5 گاڑیوں کے مختلف حصوں اور استعمال شدہ کپڑوں میں چھپائی گئی تھیں جسے انسداد منشیات فورسز نے قبضہ میں لے لیا ہے۔
اے این ایف نے انٹر سٹی بس سروس کے کارگو میں گھریلو سامان میں چھپائی گئی آئس اسمگل کرنے کی کوشش بھی ناکام بنا دی ہے۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی نے ایک نہایت سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے اپنے حلقے میں منشیات کی بھٹیاں اور کارخانے ہیں بلکہ ان کے ذریعے منشیات پورے ملک میں اسمگل کی جا رہی ہے۔
ان کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تردید حقیقت سے انکار کے مترادف ہے کیونکہ زمینی صورتِ حال کسی اور ہی تصویر کی عکاسی کرتی ہے۔
ویڈیو بیان میں اختیار ولی نے دعویٰ کیا کہ وادیٔ تیراہ میں منشیات کی تیاری بڑی بے خوفی سے جاری ہے اور متعلقہ ادارے اس سرگرمی کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔.
ان کا کہنا تھا کہ ضلع خیبر منشیات کی پیداوار اور ترسیل کا ایک بڑا مرکز بن چکا ہے جہاں سے یہ زہر ملک کے مختلف حصوں تک پھیل رہا ہے مگر صوبائی حکومت نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سیاسی مفاد کو ترجیح دی۔
اختیار ولی نے مزید الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے متعدد مقامی رہنما اور کارکن اس دھندے میں شامل ہیں اور منشیات سے حاصل ہونے والا سرمایہ نہ صرف ملک سے باہر منتقل ہوتا ہے بلکہ دہشتگردی سمیت ریاست مخالف سرگرمیوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔