وفاقی آئینی عدالت کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی اپیلیوں سے متعلق بڑا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی اپیلیوں سے متعلق بڑا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے 5 ججز کی انٹراکورٹ اپیلیں اُن کے وکیل کی عدم حاضری پر خارج کردیں، جبکہ کراچی بار ایسوسی ایشن کی اپیل بھی عدم پیروی کی بنیاد پر مسترد کردی۔

دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے وکیل اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیلوں کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:ہمارے سامنے آنے والا ہر معاملہ منصفانہ انداز میں نمٹایا جائے گا،چیف جسٹس آئینی عدالت

پیر کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس سردار سرفراز ڈوگر سمیت دیگر ہائیکورٹ ججز کے تبادلوں کو درست قرار دینے کے فیصلے کے خلاف دائرانٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کی۔

بینچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا خان، جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے۔

سماعت کا آغاز ہوا تو عدالت کو بتایا گیا کہ پانچ آئی ایچ سی ججز کے وکیل منیر اے ملک پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے عدم پیروی کی بنیاد پر ان کی انٹراکورٹ اپیل خارج کردی۔

اسی طرح کراچی بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار کے سابق صدر کی جانب سے دائر اپیلوں کے وکیل فیصل صدیقی بھی پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے ان کی اپیلیں بھی خارج کردیں۔

تاہم لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور لاہور بار کے معاملے میں مختلف صورت حال سامنے آئی۔ اگرچہ سینیئر وکیل حامد خان پیش نہ ہو سکے لیکن ان کے معاون وکیل اجمل طور عدالت میں پیش ہوئے اور سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے دونوں بار ایسوسی ایشنز کی اپیلوں کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل اڈیالہ جیل میں قید ہیں، لہٰذا ان سے ہدایات لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختصر فیصلہ پہلے ہی چیلنج کیا جا چکا ہے اور تفصیلی وجوہات سامنے آنے کے بعد اضافی گزارشات جمع کرانی ہیں جن کے لیے اپنے مؤکل سے مشاورت ضروری ہے۔ انہوں نے عدالت سے مہلت فراہم کرنے کی استدعا کی۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخواہ سے چوٹی کے قانون دان و سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان سید ارشد حسین شاہ آئینی عدالت کا حصہ بن گئے

اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ جس عدالت نے سزا سنائی ہو، صرف وہی عدالت اس حوالے سے کوئی ہدایت دے سکتی ہے، وفاقی آئینی عدالت ایسا حکم جاری نہیں کر سکتی۔ تاہم عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں ہدایات لینے کیلئے وقت دے دیا۔

ادریس اشرف نے مزید استدعا کی کہ عدالت ‘مکمل انصاف’ کے آئینی اختیار آرٹیکل 187 کے تحت انہیں اپنے موکل سے ملاقات کی اجازت دلوانے میں معاونت کرے۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ یہ عدالت کا دائرہ اختیار نہیں، اس مقصد کیلئے متعلقہ عدالتی فورم سے رجوع کریں۔

بعدازاں عدالت نے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *