مودی کے بھارت کی قیمت، فن، شناخت اور آزادیِ اظہار پر بڑھتا سیاسی دباؤ

مودی کے بھارت کی قیمت،  فن، شناخت اور آزادیِ اظہار پر بڑھتا سیاسی دباؤ

نریندر مودی کی حکومت نے بھارت کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی دھاروں میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں، جن کا ملک کے فنون، شناخت اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرا پڑا ہے،  فنکاروں اور تخلیق کاروں پر بڑھتے سیاسی دباؤ نے انہیں اپنی تخلیقی آزادی سے محروم کر دیا ہے، جبکہ اقلیتی گروپوں کی شناخت کو مسلسل چیلنج کیا جا رہا ہے۔

اس کے نتیجے میں بھارت عالمی سطح پر سماجی اور ثقافتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے، اور ملک کے داخلی معاملات بھی سنگین نوعیت اختیار کر چکے ہیں،  یہ تمام عوامل “مودی کے بھارت کی قیمت” کا حصہ ہیں، جو نہ صرف سیاسی سطح پر، بلکہ ثقافتی اور سماجی سطح پر بھی شدید اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

حال ہی میں بھارت کے سنسر بورڈ نے فلم سازوں کو بغیر کسی سرکاری وجہ کے ایک غیر سیاسی فلم میں وزیراعظم مودی کا ایک بیان شامل کرنے پر مجبور کیا، جو کہ سنیما پر بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کو ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، بھارت کے سنسر بورڈ نے “ستارے زمین پر” نامی غیر سیاسی فلم کے فلمساز کو مجبور کیا کہ وہ اپنی فلم میں وزیراعظم نریندر مودی کا ایک اقتباس شامل کریں۔

یہ فلم جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اب حکومت کا پیغام پہنچانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے ، یہ ایک بڑے رجحان کا حصہ ہے،  کہا جاتا ہے کہ حالیہ بالی ووڈ فلموں میں سے نصف سے زائد میں حکمران جماعت بی جے پی کا پروپیگنڈا شامل ہے۔

مودی کی تصویر اور نعرے  اب ویکسین سرٹیفکیٹس، ریل ٹکٹ، سینما اسکرینز اور عوامی مقامات ہر ممکن جگہ پر آویزاں کیے جا رہے ہیں ، سڑکوں کے کنارے مودی کی نام نہاد کامیابیوں کے پوسٹر اور بینرز دکھائی دیتے ہیں، جن میں سے کئی ابھی تک مکمل ہی نہیں ہو سکیں ، اب یہ دباؤ صرف ریاستی اداروں تک محدود نہیں رہا۔

بھارت میں پھیلتی اسلاموفوبیا: مسلم شناخت نشانہ

اب بہت سے شہری “ستارے زمین پر” کا بائیکاٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، صرف اس لیے کہ یہ فلم عامر خان نے بنائی ہے، جو ایک مسلمان اداکار اور فلم ساز ہیں۔

“مولوی” جیسے الفاظ کو طنزیہ انداز میں ان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جو بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا (اسلام سے نفرت) کو ظاہر کرتا ہے۔

عامر خان، جنہوں نے ماضی میں مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھیں،ان کو “بے شرم”، “دیش دروہی” (ملک دشمن) جیسے طعنے دیے جا رہے ہیں، اور یہاں تک کہ ان پر “لو جہاد” کو فروغ دینے کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے ،  یہ وہ سازشی نظریہ ہے جسے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اکثر استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ حملے اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ مسلم کمیونٹی کے امیر اور معروف شخصیات بھی نفرت انگیز مہمات سے محفوظ نہیں۔

بھارت کی ثقافتی دنیا میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور مذہبی جانبداری پر شدید تنقید ہو رہی ہے، کیونکہ یہ آزادی اظہار کو دبانے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں خلیج کو گہرا کرنے کا باعث بن رہی ہے۔

نفسیاتی اثرات کا استعمال

“میر ایکسپوژر ایفیکٹ” (Mere Exposure Effect) ایک معروف نفسیاتی رجحان ہے، کسی چیز کو جتنی بار آپ دیکھتے ہیں، اتنا ہی وہ آپ کو پسند آنے لگتی ہے۔

یہ اثر اس وقت بھی کام کرتا ہے جب آپ کو اس بات کا علم نہ ہو کہ آپ کسی چیز کے بار بار ایکسپوژر میں ہیں ، یہ رجحان ہر چیز پر اثر انداز ہو سکتا ہے چاہے وہ لوگ ہوں، گانے ہوں، یا رنگ۔

یعنی کسی چیز کو بار بار دکھا کر، دماغ کو اس کا عادی بنایا جاتا ہے، اور یوں وہی چیز آپ کو بہتر لگنے لگتی ہے۔

بھارتی یوٹیوبر دھروو رتی (Dhruv Rathee) نے بھی ایک ویڈیو میں اس تاثر کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح مودی کی تصویر اور باتیں ہر جگہ دکھا کر عوام کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مودی کے بھارت کی قیمت: ناکام سفارت کاری اور تباہ کن خارجہ پالیسی

بہت سے بھارتی شہری مودی کی فاشسٹ طرز حکومت سے ناخوش نظر آتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ مودی نے بھارت کو تباہ کر دیا ہے اور ملک کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔

وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ بھارت سماجی طور پر تنہا ہو گیا ہے، حالیہ ایس سی او (SCO) اجلاس اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ مودی کی سفارت کاری کتنی ناکام اور ان کی خارجہ پالیسی کس قدر نقصان دہ رہی ہے۔

مودی کے بھارت میں فنونِ لطیفہ، شناخت اور آزادیِ اظہار پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ سے نہ صرف سینما اور ثقافت کی آزادی محدود ہو رہی ہے، بلکہ اس کا اثر سماجی ہم آہنگی پر بھی پڑ رہا ہے۔ فنکاروں اور عوامی شخصیات کو مذہبی، ثقافتی اور سیاسی وابستگیوں کی بنا پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور ان کی تخلیقی آزادی کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

مودی حکومت کی پالیسیوں نے بھارت کی ثقافتی زمین کو بدل دیا ہے، جہاں آزادانہ اظہار اور مختلف ثقافتوں کی حمایت اب سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *