بھارت میں مسلمان یرغمال بن چکے ہیں، ہم آئینی انصاف مانگتے ہیں: اسدالدین اویسی

بھارت میں مسلمان یرغمال بن چکے ہیں، ہم آئینی انصاف مانگتے ہیں: اسدالدین اویسی

ویب ڈیسک۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتیں اب ملک میں دوسرے درجے کے شہری بھی نہیں رہیں، بلکہ یرغمال بنا دی گئی ہیں۔

اپنے بیان میں اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ کیا ہر روز ہمیں پاکستانی، بنگلہ دیشی، جہادی یا روہنگیا کہلانا کسی فائدے کی علامت ہے؟ کیا ماب لنچنگ کا شکار ہونا کوئی تحفظ ہے؟ کیا یہ تحفظ ہے کہ بھارتی شہریوں کو اغوا کر کے بنگلہ دیش میں دھکیلا گیا؟

انہوں نے مزید کہاکہ کیا یہ اعزاز ہے کہ ہمارے گھروں، مساجد اور مزارات کو غیرقانونی طور پر بلڈوز کر دیا جائے؟ ہمیں سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر غیرفعال کر دیا جائے؟ کیا یہ عزت ہے کہ وزیراعظم جیسے اعلیٰ عہدے پر بیٹھے افراد کی نفرت انگیز تقاریر کا ہدف ہم ہوں؟

اسدالدین اویسی نے زور دے کر کہا کہ بھارت کے مسلمان اب وہ واحد گروہ ہیں جن کے بچوں کا معیارِ زندگی اُن کے والدین یا دادا دادی سے بھی کم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اکثریتی علاقوں کو جان بوجھ کر بنیادی سہولیات اور سرکاری انفراسٹرکچر سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کیخلاف جنگ میں 4 بھارتی پائلٹ سمیت 250 سے زائد فوجی ہلاک ہونے کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ اگر “احسان” کی بات کی جائے تو سوال یہ ہےکہ کیا مسلمان ہندو اینڈوومنٹ بورڈز کے رکن بن سکتے ہیں؟ نہیں۔ لیکن آپ کے وقف ترمیمی قانون کے تحت غیر مسلموں کو وقف بورڈز میں شامل کیا گیا، بلکہ اکثریت بھی دی گئی۔

اسدالدین اویسی نے تعلیمی میدان میں بھی حکومت پر جانبداری کا الزام عائد کیا، اور کہا کہ مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ ختم کر دی گئی، پری میٹرک اسکالرشپ بند کی گئی، پوسٹ میٹرک اور میرٹ کم مین اسکالرشپ محدود کر دی گئی صرف اس لیے کہ ان سے مسلم طلبہ کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کی اعلیٰ تعلیم میں نمائندگی کم ہوئی ہے، جبکہ غیر رسمی معیشت میں ان کی تعداد بڑھی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق، مسلمان حکومت کی معاشی پالیسیوں سے بدترین متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت کی نئی چال، مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو بدنام کرنے کی سازش

اسدالدین اویسی نے آخر میں کہاکہ ہم دوسرے ممالک کی اقلیتوں سے موازنہ نہیں کر رہے، نہ ہی اکثریتی برادری سے زیادہ مانگ رہے ہیں۔ ہم صرف وہی چاہتے ہیں جو آئین نے ہمیں وعدہ دیا ہے: سماجی، معاشی اور سیاسی انصاف۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *