ویب ڈیسک۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتیں اب ملک میں دوسرے درجے کے شہری بھی نہیں رہیں، بلکہ یرغمال بنا دی گئی ہیں۔
اپنے بیان میں اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایا کہ کیا ہر روز ہمیں پاکستانی، بنگلہ دیشی، جہادی یا روہنگیا کہلانا کسی فائدے کی علامت ہے؟ کیا ماب لنچنگ کا شکار ہونا کوئی تحفظ ہے؟ کیا یہ تحفظ ہے کہ بھارتی شہریوں کو اغوا کر کے بنگلہ دیش میں دھکیلا گیا؟
انہوں نے مزید کہاکہ کیا یہ اعزاز ہے کہ ہمارے گھروں، مساجد اور مزارات کو غیرقانونی طور پر بلڈوز کر دیا جائے؟ ہمیں سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر غیرفعال کر دیا جائے؟ کیا یہ عزت ہے کہ وزیراعظم جیسے اعلیٰ عہدے پر بیٹھے افراد کی نفرت انگیز تقاریر کا ہدف ہم ہوں؟
You are a Minister of the Indian Republic, not a monarch. @KirenRijiju You hold a constitutional post, not a throne. Minority rights are fundamental rights, not charity.
Is it a “benefit” to be called Pakistani, Bangladeshi, jihadi, or Rohingya every single day? Is it… https://t.co/G1dgmvj6Gl
— Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) July 7, 2025