ایران نے دفاعی نظام کو فعال کرنے کے لیے چین سے جدید فضائی میزائل سسٹمز حاصل کر لیے، مڈل ایسٹ آئی

ایران نے دفاعی نظام کو فعال کرنے کے لیے چین سے جدید فضائی میزائل سسٹمز حاصل کر لیے، مڈل ایسٹ آئی

ایران نے چین سے جدید زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز حاصل کر لیے ہیں، تاکہ اسرائیل کے ساتھ حالیہ 12 روزہ جنگ میں ہونے والے نقصانات کے بعد اپنے فضائی دفاعی نظام کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد پہلی بار صیہونی طیاروں کا یمن میں بڑا فضائی حملہ

مڈل ایسٹ آئی (ایم ای ای) کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام ایران اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی شراکت داری کی واضح علامت ہے، دونوں ممالک کے درمیان مغربی دباؤ کے باوجود دفاعی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ میزائل ترسیل اُس وقت ہوئی جب 24 جون کو ایران پر اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہوا، اس دوران اسرائیلی فضائیہ نے ایرانی میزائل لانچ پیڈز اور اہم عسکری شخصیات کو نشانہ بنایا تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک اعلیٰ عرب انٹیلی جنس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ یہ چین کے میزائل سسٹمز کا حصول ایران کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد مستقبل میں اسرائیلی فضائی حملوں سے تحفظ حاصل کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سودے کے عوض ایران چین کو خام تیل کی ترسیل کر رہا ہے، جو امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے’تیل کے بدلے ہتھیار‘ کی اسکیم کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملائیشیا جیسے ممالک بطور ثالث کردار ادا کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:ایران جوہری ہتھیار بنانے سے چند ہفتے دور تھا، امریکی حملے میں کوئی ایرانی ایٹمی تنصیب باقی نہیں بچی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

رپورٹ کے مطابق ایک دوسری عرب شخصیت نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا کے کئی خلیجی اتحادیوں کو اس ہتھیار منتقلی کی خبر ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو اس پیشرفت پر بریفنگ دی جا چکی ہے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ترسیل کیے گئے میزائل سسٹمز کی مقدار اور نوعیت فی الحال واضح نہیں، تاہم چین کا HQ-9 اور HQ-16 جیسے جدید فضائی دفاعی نظام پہلے ہی پاکستان اور مصر جیسے ممالک استعمال کر رہے ہیں۔

چین کے ساتھ بڑھتی فوجی قربت

رپورٹ کے مطابق یہ نیا فوجی تعاون چین اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک ہم آہنگی کی جانب اشارہ کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کو مغربی ممالک سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی مئی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی90 فیصد تیل برآمدات اب چین کو جا رہی ہیں۔

تنازع کے بعد ایرانی حکمت عملی میں تبدیلی

یہ میزائل ترسیل ایران کی بعد از جنگ دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جس کا مقصد اسرائیلی فضائیہ کی برتری کو کمزور کرنا ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل نے فضائی حملے کرتے ہوئے ایران کے بیلسٹک میزائل سائٹس اور کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو تباہ کیا۔ اس کے باوجود ایران نے جوابی میزائل حملے کیے جن میں تل ابیب اور حیفہ کے حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کے پاس پہلے سے موجود روسی ساختہ S-300 سسٹمز اور مقامی سطح پر تیار کیے گئے باور-373 اور خورداد سیریز جیسے فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ نظام اسرائیل کے امریکی ایف-35 اسٹیلتھ طیاروں کے خلاف محدود کارکردگی رکھتے ہیں۔ چینی ہتھیاروں کی شمولیت سے ایران تکنیکی خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات متوقع ہے، جس میں ایران کے ایٹمی پروگرام اور فوجی سرگرمیاں مرکزی موضوع ہوں گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *