مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مشترکہ سفارتی کوششوں نے تاریخ رقم کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈیڈ لائن میں توسیع کے اعلان کے فوراً بعد ایران نے بھی باضابطہ طور پر پاکستان کی “دو ہفتوں کی جنگ بندی” کی درخواست قبول کرنے اور سفارتی عمل کو مکمل موقع دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ برادر ملک پاکستان کی مخلصانہ اپیل اور وزیراعظم شہباز شریف کے ‘پیس پلان’ کا احترام کرتے ہوئے، ایران اگلے دو ہفتوں تک کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز کرے گا۔ تہران نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اس دوران ‘آبنائے ہرمز’ کے حوالے سے بھی نرمی اختیار کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو اور سفارت کاری کے لیے سازگار ماحول میسر آ سکے۔
عالمی میڈیا اس پیش رفت کو پاکستان کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی جیت قرار دے رہا ہے۔ سی این این اور دیگر اداروں کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پسِ پردہ “خاموش سفارت کاری” نے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔ دو ایسے ممالک جو جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے، اب پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات کی میز پر آنے کو تیار ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل، برادر اسلامی ممالک اور یورپی یونین نے پاکستان کے اس قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ خطے میں امن کا سب سے بڑا داعی ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال ختم ہو گئی ہے اور پوری دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے۔