پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ، حکومت اور آئل کمپنیاں پھر آمنے سامنے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ، حکومت اور آئل کمپنیاں پھر آمنے سامنے

 آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں حالیہ تبدیلیوں اور 128 ارب روپے کے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔

کونسل کے مطابق قیمتوں کے تعین کے نئے طریقہ کار اور پرائس ڈیفرنشل کلیمز کی ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر نے پیٹرولیم شعبے میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتا ہوا مالی دباؤ شعبے کی لیکویڈیٹی کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے لیے خوشخبری، سعودی عرب کیا بڑا کرنے جارہا؟ اہم خبر آگئی

 وفاقی وزیر برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کو ارسال کیے گئے ایک تفصیلی خط میں کونسل نے مؤقف اختیار کیا کہ بیک وقت دو بڑی تبدیلیاں قیمتوں کے فارمولے میں رد و بدل اور ریگولیٹری ادائیگیوں میں تاخیر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر شدید مالی دباؤ ڈال رہی ہیں۔

کونسل نے واضح کیا کہ یہ کمپنیاں ملک میں ایندھن کی خریداری، درآمد اور ترسیل کی ذمہ دار ہیں، لہٰذا موجودہ صورتحال برقرار رہی تو سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *