افواجِ پاکستان نے قومی سلامتی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے افغان سرحد کے قریب واقع 32 سکوائر کلومیٹر حساس علاقے کو مکمل طور پر سرحدی باڑ لگا کر بند کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ علاقہ حالیہ کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج دہشتگردوں کی پراکسیزسے کلیئر کر کے اپنے قبضہ میں لے لیا تھا، اس علاقے میں دہشتگردوں اور غیر قانونی نقل و حرکت کے خطرات موجود تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں باقاعدہ نگرانی کے نظام، چیک پوسٹس اور جدید سیکیورٹی آلات بھی نصب کر دیے گئے ہیں، تاکہ کسی بھی قسم کی دراندازی یا غیر قانونی سرگرمی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔ اس اقدام کو پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی کو مؤثر بنانے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق یہ علاقہ ماضی میں افغان طالبان اور بھارت کے حمایت یافتہ پراکسی گروپس فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا، جہاں سے سرحد پار نقل و حرکت اور حملوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔ تاہم حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد اس علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کر کے مستقل نگرانی میں لے لیا گیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرحدی باڑ کی تنصیب سے نہ صرف غیر قانونی آمد و رفت کو روکا جا سکے گا بلکہ دہشتگردی کے نیٹ ورکس کو بھی بڑا دھچکا لگے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت باڑ کے ساتھ ساتھ نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی، جیسے کیمرے اور سینسرز بھی نصب کیے گئے ہیں، جبکہ سرحدی گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید حساس علاقوں کو بھی اسی طرز پر محفوظ بنانے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے خطے میں سیکیورٹی توازن پر بھی اثر پڑے گا اور پاکستان کی سرحدی پالیسی مزید مضبوط ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات دہشت گردی کے خاتمے اور سرحدی نظم و ضبط کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔