ایران میں جاری شدید بحران اور اسرائیل و امریکہ کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی کے درمیان، اسرائیلی اور بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ 88 رکنی اسمبلی آف ایکسپرٹس (مجلسِ خبرگانِ رہبری) نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اگرچہ ایرانی حکومت نے تاحال اس انتخاب کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی، تاہم تہران اور قم کے حلقوں میں ان کی تقرری کی خبریں زبان زدِ عام ہیں۔مجلسِ خبرگان کا اجلاس: رپورٹس کے مطابق، اسمبلی کے اراکین نے ایک ہنگامی اور خفیہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس آن لائن منعقد کیا گیا کیونکہ قم میں اسمبلی کی عمارت فضائی حملے کا شکار ہوئی تھی۔
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای، آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں اور طویل عرصے سے ایران کے طاقتور دفاعی اور انٹیلی جنس اداروں، بالخصوص پاسدارانِ انقلاب (IRGC) میں گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور سوگ
دوسری جانب، ایران بھر میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات پر 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق:
تعزیتی اجتماعات: تہران کے امام خمینی ہال میں آج سے جمعے تک بڑے پیمانے پر تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں، جہاں ہزاروں افراد اپنے قائد کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ حتمی طور پر یہ طے پایا ہے کہ تہران میں سرکاری نمازِ جنازہ کے بعد میت کو مقدس شہر مشہد لے جایا جائے گا، جہاں ان کی تدفین امام رضا علیہ السلام کے روضے کے قرب و جوار میں ہوگی۔
مزید پڑھیں: آیت اللّٰہ خامنہ ای نے شہادت سے قبل کیا کہا تھا؟شاگرد نے بتادیا

