غزہ میں قیامِ امن سے متعلق جمعرات کو ہونے والے اہم اجلاس سے قبل فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے عالمی امن فورس کے ممکنہ کردار پر اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔ تنظیم نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگر غزہ میں کسی بین الاقوامی فورس کو تعینات کیا جاتا ہے تو اسے صرف سرحدی نگرانی اور فریقین کے درمیان حفاظتی تہہ تک محدود رہنا ہوگا۔
تنظیم کے ترجمان باسم نعیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ’غزہ میں عالمی فورس کی موجودگی پر ہمیں اصولی اعتراض نہیں‘ بشرطیکہ وہ فلسطین کے سول، سیاسی اور سیکیورٹی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی اہلکار اگر داخلی معاملات میں دخل اندازی کریں گے تو فلسطینی عوام انہیں قابض قوتوں کا متبادل تصور کریں گے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔
حماس کے مطابق مجوزہ عالمی فورس کا بنیادی کردار صرف یہ ہونا چاہیے کہ وہ فریقین کو ایک دوسرے سے الگ رکھے، سرحدی علاقوں میں کشیدگی کو کم کرے اور طے شدہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں معاونت فراہم کرے۔ تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے انتظامی و حکومتی امور کا اختیار مکمل طور پر فلسطینیوں کے پاس رہنا چاہیے۔
عالمی میڈیا کے مطابق بورڈ آف پیس کے آئندہ اجلاس میں غزہ کی عبوری حکومت کے قیام، مستقل جنگ بندی کے فریم ورک اور مختلف فلسطینی دھڑوں کے درمیان مفاہمت کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں عالمی امن فورس کی تعیناتی، اس کے دائرہ کار اور اختیارات کی حدود بھی شامل ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے پیشگی شرائط عائد کرنے کا مقصد مذاکراتی عمل میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق’میدان اور میز دونوں پر حکمت عملی ساتھ ساتھ چل رہی ہے‘۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عالمی فورس کا مینڈیٹ واضح اور محدود نہ ہوا تو خطے میں نئی کشیدگی جنم لے سکتی ہے۔
دوسری جانب فلسطینی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا بین الاقوامی فورس کی موجودگی امن کو مستحکم کرے گی یا داخلی خودمختاری کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔ عوامی سطح پر بھی یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ‘کیا عالمی قوتیں غیر جانبدار رہ سکیں گی؟’
واضح رہے کہ غزہ میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران کے تناظر میں عالمی برادری کی نظریں اس اہم اجلاس پر جمی ہوئی ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف غزہ بلکہ پورے خطے کی آئندہ سیاسی صورت حال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔