ملکی سیاست میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی حکومت اورپاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے درمیان اہم ترین معاملات پر مذاکرات کے آغاز پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ سیاسی کشیدگی، احتجاجی تحریک اور قانونی معاملات کو حل کرنے کے لیے بیک ڈور رابطوں نے باقاعدہ بات چیت کی شکل اختیار کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ سے بڑی خبر،عدالت کون سے 6کیسز سننے جارہی؟تفصیلات آگئیں
نجی ٹی وی رپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق معاملات پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج جیل مینول کے تحت ہی کیا جائے گا اور اس حوالے سے طریقہ کار پر دونوں جانب سے اتفاق پایا گیا ہے۔
علاج کے طریقہ کار پر اتفاق
رپورٹ کے مطابق عمران خان کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے خصوصی مشاورت کی گئی ہے۔ سیکیورٹی صورتحال اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ علاج جیل میں قید کسی ملزم کے لیے طے شدہ مینول کے مطابق ہی کروایا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ ’قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو خصوصی رعایت نہیں دی جا سکتی‘۔
دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ ’طبی سہولت بنیادی حق ہے اور علاج میں تاخیر کسی صورت مناسب نہیں‘ ۔ رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین نے درمیانی راستہ نکالنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ نہ صرف قانونی تقاضے پورے ہوں بلکہ سیکیورٹی خدشات بھی دور کیے جا سکیں۔
احتجاج کے خاتمے پر بھی بات چیت
رپورٹس کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان احتجاجی سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے بھی مذاکرات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر طبی اور قانونی معاملات میں پیش رفت برقرار رہی تو سیاسی درجہ حرارت میں کمی آ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:عمران خان کو طبی بنیادوں پر ضمانت پر رہا کرنے کی نئی درخواست دائر
نجی ٹی وی کے مطابق مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ واضح رہے کہ یہ پیش رفت ملکی استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے، تاہم حتمی نتائج مذاکرات کے اگلے مراحل پر منحصر ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق آئندہ چند روز میں مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کا اعلان بھی کیا جا سکے گا۔ اگر دونوں فریقین اعتماد سازی کے اقدامات پر عمل درآمد کرتے ہیں تو سیاسی بحران میں کمی آ سکتی ہے۔
ملکی سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے اور اسے ممکنہ ‘ڈیڈ لاک بریک تھرو’ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں زیر تعمیر نئی جیل 2 ماہ کے اندر مکمل ہو جائے گی، جس کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان کو وہاں منتقل کیا جائے گا۔

