ایرانی سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کر دی

ایرانی سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کر دی

تہران – ایران کے سرکاری میڈیا نے ان تمام افواہوں اور دعوؤں پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جن میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا ذکر کیا جا رہا تھا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے  نے اپنی خصوصی نشریات میں انتہائی دکھ اور رنج کے ساتھ اعلان کیا ہے کہ رہبرِ معظم اسرائیل اور امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں اپنے ساتھیوں سمیت جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا نےدعویٰ کیا کہ ایرانی سپریم لیڈر ساتھیوں کے ہمراہ زیر زمین بینکر میں تھے، ایرانی سپریم لیڈر درجنوں ساتھیوں سمیت مارے گئےہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کےکمپاؤنڈپر30 بم گرائےگئے۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کی تصویر امریکی صدر کو دکھائی گئی۔ ادھر بر طانوی میڈیا نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ خامنہ ای کی لا ش ملی ہے۔

اس تصدیق کے بعد پورے ایران میں سوگ کی لہر دوڑ گئی ہے اور ملک بھر میں پرچم سرنگوں کر دیے گئے ہیں۔ ایرانی حکام نے اس عظیم سانحے پر قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور عوام سے صبر و استقامت کی اپیل کی گئی ہے۔ تہران کی سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں شہری اپنے رہنما کے فراق میں نکل آئے ہیں، جہاں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

دفاعی اور سیاسی تجزیہ کار اس واقعے کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ اس خبر کے بعد خطے میں درج ذیل تبدیلیاں متوقع ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کے بعد ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس عظیم سانحے کی اہمیت اور رہبرِ معظم کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایران میں 7 روزہ عام تعطیل کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے دوران تمام سرکاری و نجی ادارے، تعلیمی مراکز اور کاروباری مراکز بند رہیں گے۔

مزید پڑھیں: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا14 امریکی اڈوں پر حملوں میں سینکڑوں فوجیوں کی ہلاکت کا دعوٰی

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *