علیمہ خان کی جانب سے کی گئی تنقید کے جواب میں بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی کے پی اے کی جانب سے بھی لمحہ بہ لمحہ خبردار کیا جاتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیملی کو آگاہ نہ کیا جاتا تو یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو انہوں نے اکیلے نہ کی ہو اور وہ دل سے بانی پی ٹی آئی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ علیمہ آپا یہ جاننا چاہ رہی تھیں کہ کانفرنس کال پر مذکورہ افراد کے علاوہ اور کون موجود تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان افراد کے علاوہ کانفرنس کال میں سہیل آفریدی بھی شامل تھے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے بھائی کا مسئلہ ہے، بانئ پی ٹی آئی ہی سیاست میں سرگرم ہیں، اب ہم اپنے بھائی کے لیے کھل کر بات کریں گے اور محسن نقوی جو مرضی کریں، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
علیمہ خان نے کہا کہ پارٹی رہنما جو مرضی کہیں، ہم اب اپنے بھائی کے لیے بولیں گے، ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ پارٹی میں کیا ہو رہا ہے اور قیادت مکمل طور پر خاموش ہے، پارٹی کے وکلاء اور ممبرانِ اسمبلی خود کہتے ہیں کہ ووٹ بانی کا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بانی نے ہمیشہ کہا تھا کہ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے، اس لیے محسن نقوی کے خلاف بیان سے پارٹی کا تقسیم ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، چند افراد اگر بیان دیں تو اس سے پارٹی کو نقصان نہیں پہنچتا۔