اسرائیل نے صحافت کا گلا دبا دیا، لبنان میں 3 صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ، بچانے والے 5 طبی ورکز بھی صہیونی بربریت کی نذر

اسرائیل نے صحافت کا گلا دبا دیا، لبنان میں 3 صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ، بچانے والے 5 طبی ورکز بھی صہیونی بربریت کی نذر

لبنان اور فلسطین میں اسرائیلی فوج کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ ترین کارروائیوں میں اسرائیلی فورسز نے لبنان میں صحافیوں کی گاڑی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون صحافی سمیت ‘3’ میڈیا ورکرز موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، یہ ایک ‘ڈبل ٹریپ’ حملہ تھا، جہاں پہلے دھماکے کے بعد امداد کے لیے پہنچنے والے ‘5’ طبی ورکرز کو بھی دوسرے حملے میں نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر پاکستان کا سخت ردعمل، عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ان حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اب تک مجموعی طور پر ’51’ طبی اہلکاروں کو قتل کر چکا ہے، جو کہ جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، لبنان میں ‘2’ مارچ سے جاری اسرائیلی بمباری میں جاں بحق ہونے والے معصوم شہریوں کی تعداد ‘1189’ ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

دوسری جانب، مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج نے صحافت کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی۔ فلسطینیوں کی زمین پر زبردستی قبضے کی کوریج کرنے والی ایک امریکی نیوز چینل کی ٹیم کو نہ صرف حراست میں لیا گیا بلکہ ان پر بدترین تشدد بھی کیا گیا۔

عینی شاہدین اور متاثرہ صحافیوں کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں نے ایک غیر ملکی فوٹو جرنلسٹ کا گلا دبایا، اسے زمین پر گرایا اور اس کا مہنگا پیشہ ورانہ کیمرا توڑ دیا۔ اگرچہ عالمی دباؤ کے باعث ان صحافیوں کو ‘2’ گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا، تاہم ان کے آلاتِ حرب چھین لیے گئے۔

واضح رہے  کہ اسرائیل دانستہ طور پر ان افراد کو نشانہ بنا رہا ہے جو دنیا کو زمینی حقائق دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عالمی صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس واقعے کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور طبی عملے پر حملے بین الاقوامی انسانی حقوق کے ‘جنیوا کنونشن’ کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور عالمی برادری کو اسرائیل کے اس ‘لائسنس ٹو کل’ کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *