اپنا گھر بنانے کیلئے ایک کروڑ تک لون کیسے لے سکتے ہیں،طریقہ کار جانیے

اپنا گھر بنانے کیلئے ایک کروڑ تک لون کیسے لے سکتے ہیں،طریقہ کار جانیے

حکومتِ پاکستان نے کم لاگت گھروں کی تعمیر کے لیے رعایتی ہاؤسنگ اسکیم پر باقاعدہ عملدرآمد شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو اپنے گھر کا خواب پورا کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نےہاؤسنگ لون کی حد 35 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ اب 10 مرلے تک کے گھر کے لیے بھی صرف 5 فیصد فکسڈ مارک اپ پر قرض حاصل کیا جا سکے گا۔ اس سے قبل بعض کیٹیگریز میں شرح سود 8 فیصد تک تھی، جسے کم کر کے یکساں طور پر 5 فیصد مقرر کر دیا گیا ہے۔ پہلے سے 8 فیصد پر قرض لینے والے افراد کو بھی اب 5 فیصد فکسڈ شرح سے فائدہ دیا جائے گا۔

حکومت نے اس اسکیم کے پہلے سال کے لیے 322 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے، جس میں 282 ارب روپے مارک اپ سبسڈی اور 40 ارب روپے رسک شیئرنگ کاسٹ شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام بینکوں کو زیادہ سے زیادہ فنانسنگ فراہم کرنے کی ترغیب دے گا اور قرض کی منظوری کا عمل بھی تیز ہوگا۔

اس اسکیم کے تحت چار سال میں مجموعی طور پر 5 لاکھ گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں جون 2026 تک 50 ہزار گھروں کی تعمیر کی جائے گی، جبکہ جون 2027 تک ایک لاکھ گھر مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تیسرے سال جون 2028 تک مزید ڈیڑھ لاکھ اور چوتھے سال جون 2029 تک مزید دو لاکھ ہاؤسنگ یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ملک میں پیٹرول وڈیزل کی قلت کے خدشہ میں کتنی حقیقت؟حکومت نے حقائق بتا دیے

گھر کے سائز کی حد بھی بڑھا دی گئی ہے۔ اب اسکیم کے تحت زیادہ سے زیادہ 10 مرلے (2720 مربع فٹ) تک کا گھر تعمیر یا خریدا جا سکے گا، جبکہ فلیٹ یا اپارٹمنٹ کا سائز 1360 مربع فٹ سے بڑھا کر 1500 مربع فٹ مقرر کر دیا گیا ہے۔

اس اسکیم کی ایک اہم خصوصیت قرض کی واپسی کے لیے 20 سال تک کا طویل عرصہ ہے، جس سے ماہانہ قسطوں کا بوجھ کم ہو جائے گا۔ حکومت پہلے دس سال تک مارک اپ سبسڈی برداشت کرے گی تاکہ شہری آسانی سے قسطوں کی ادائیگی کر سکیں۔ بینکوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ 90 فیصد تک فنانسنگ فراہم کریں، جبکہ درخواست گزار کو صرف 10 فیصد رقم بطور ابتدائی حصہ دینا ہوگا۔

اہلیت کے معیار کے مطابق صرف وہ پاکستانی شہری درخواست دے سکیں گے جن کے پاس کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ موجود ہو اور ان کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی جائیداد نہ ہو۔ یہ اسکیم خاص طور پر پہلی بار گھر خریدنے یا تعمیر کرنے والوں کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔ درخواست گزار اپنے ذاتی پلاٹ پر گھر تعمیر کرنے، تیار شدہ مکان یا فلیٹ خریدنے یا نیا پلاٹ لے کر اس پر تعمیر کرنے کے لیے بھی قرض حاصل کر سکتا ہے۔

حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف لاکھوں خاندانوں کو سستی رہائش میسر آئے گی بلکہ تعمیراتی صنعت، روزگار کے مواقع اور معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *