آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) اور انسانی صحت کے باہمی تعلق پر ایک حالیہ تحقیق میں نشاندہی کی ہے کہ اے آئی کے طبی مشوروں پر مکمل انحصار سے گریز کرنا چاہیئے۔
تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی عالمی شہرت یافتہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے اے آئی چیٹ بوٹس اور طبی مشوروں کے حوالے سے ایک انتہائی اہم تحقیق میں واضح کیا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹس سے ناقص اور غیر مستحکم طبی مشورے فراہم کیے جاتے ہیں جن پر مکمل انحصار سے گریز کیا جانا چاہیے۔
اگرچہ اس جدید تحقیق نے فی الحال اے آئی کے طبی مشوروں پر مکمل انحصار سے گریز کا مشورہ دیا ہے، لیکن اس کے نتائج مستقبل کے لیے انتہائی خوش آئند ہیں جن میں محققین کا کہنا ہے کہ اس مطالعے سے ٹیک کمپنیوں کو ایسے اے آئی ماڈلز بنانے میں مدد ملے گی جو انسانی پیچیدگیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے اور “غلط مشوروں” کا راستہ روک سکیں گے۔
اس تحقیق نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ انسانی ہمدردی اور کلینیکل تجربہ بے مثال ہے، جس سے ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ مزید مضبوط ہوگا۔ 1300 افراد پر مشتمل اس اسٹڈی سے لوگوں کو یہ سکھایا ہے کہ وہ کس طرح بہتر سوالات پوچھ کر اے آئی سے درست معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
اس حوالے سے محققین پر امید ہیں کہ یہ چیلنجز عارضی ہیں۔ اس تحقیق کا اصل مقصد اے آئی کو “ڈاکٹر کے متبادل” کے بجائے ایک ایسے “محفوظ مددگار” کے طور پر تیار کرنا ہے جو ہنگامی حالات میں انسانوں کی درست اور بہتر انداز میں رہنمائی کر سکے۔
جلد ہی ایسے اے آئی سسٹم متعارف کروائے جائیں گے جو صارف کی نامکمل معلومات کے باوجود سائنسی بنیادوں پر درست نتائج فراہم کرنے کی صلاحیت رکھیں گے۔