سعودی عرب کے تیزی سے ترقی کرتے ٹیکنالوجی سیکٹر نے پاکستانی آئی ٹی ماہرین کے لیے نئے اور وسیع مواقع پیدا کر دیے ہیں۔
ویژن 2030 کے تحت جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے باعث مملکت میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکورٹی، آٹومیشن اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ جیسے شعبوں میں اعلیٰ مہارت یافتہ افراد کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے پاکستان ایک اہم افرادی قوت فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت ایسی موزوں پوزیشن میں ہے جہاں وہ اپنی ہنر مند آئی ٹی افرادی قوت کو سعودی عرب کی ضروریات کے مطابق مؤثر انداز میں متعارف کرا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون، ہدفی مہارت سازی پروگرامز اور ادارہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کارکنوں کی تعداد 5 لاکھ 30 ہزار سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی لیبر مارکیٹ میں پاکستانی افرادی قوت پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
سعودی عرب میں مقیم آئی ٹی اور سائبر سیکورٹی ماہر تیمور بٹ کے مطابق ویژن 2030 کے منصوبوں کے تحت مملکت میں ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، جس کے لیے دنیا بھر سے خصوصاً پاکستان جیسے مسلم ممالک سے ماہرین کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حساس نوعیت کے منصوبوں میں پاکستانی سائبر سیکورٹی ماہرین کو خاص ترجیح دی جا سکتی ہے۔
آئی ٹی ایکسپورٹر سعد شاہ کے مطابق کئی پاکستانی آئی ٹی اور فن ٹیک کمپنیاں سعودی عرب میں اپنے ذیلی دفاتر قائم کر چکی ہیں اور مقامی سطح پر عملے کو منتقل کر رہی ہیں۔ مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی اور بڑی پاکستانی کمیونٹی کی موجودگی نے سعودی عرب کو پاکستانی پروفیشنلز کے لیے ایک پرکشش منزل بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیں: سفارتی اہمیت کا حامل دورہ: شہزادہ ولیم کی سعودی عرب آمد

