پنجاب حکومت نے ایندھن کے بحران اور معاشی دباؤ کے باعث عارضی طور پر بند کیے گئے تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت صوبے بھر کے تمام اسکول، کالج اور جامعات یکم اپریل سے باقاعدہ طور پر کھول دیے جائیں گے، جہاں تدریسی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہوں گی۔
صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے اس حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب تمام تعلیمی اداروں میں تدریس صرف روایتی انداز میں ہوگی اور کسی بھی قسم کے آن لائن یا مخلوط نظام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے اور تعلیمی نقصان کے ازالے کے لیے ضروری ہے کہ مکمل حاضری کے ساتھ کلاسز کا انعقاد کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام تعلیمی ادارے ہفتے میں پانچ دن کھلے رہیں گے اور تدریسی عمل جاری رکھیں گے، تین یا چار دن تعلیمی ادارے کھولنے کی کوئی بھی تجویز قابلِ قبول نہیں ہوگی، کیونکہ اس سے تعلیمی تسلسل متاثر ہو سکتا ہے۔
وزیرِ تعلیم نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم پر بھرپور توجہ دیں اور تعطیلات کے دوران ہونے والے تعلیمی نقصان کو پورا کرنے کے لیے محنت کریں، انہوں نے اساتذہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ نصاب کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں اور طلبہ کی رہنمائی میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے 9 مارچ کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کے نتیجے میں ملک میں پیٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث یہ غیر معمولی اقدام اٹھایا گیا۔
تعطیلات کے دوران 10 مارچ سے 31 مارچ تک طلبہ کی تعلیم کا سلسلہ آن لائن جاری رکھا گیا، تاہم اب حکومت نے حالات میں بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے روایتی نظامِ تعلیم کی بحالی کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے تعلیمی سرگرمیاں دوبارہ پوری رفتار سے شروع ہو سکیں گی۔