ترکیہ کے حکام نے یورپ جانے کی غیر قانونی کوشش کرنے والے 18 افغان مہاجرین کو صوبہ ادرنہ سے گرفتار کر لیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ترک سیکیورٹی فورسز کے مطابق یہ کارروائی سرحدی نگرانی کے دوران ایک خصوصی آپریشن میں کی گئی، جس کا مقصد غیر قانونی طور پر یورپی ممالک میں داخل ہونے کی کوششوں کو روکنا تھا۔
ترک خبر رساں ایجنسی کے مطابق گرفتار ہونے والے افغان مہاجرین میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں حکام نے تمام افراد کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد ملک بدری کے عمل کے لیے متعلقہ مراکز منتقل کر دیا ہے۔ ان مراکز میں مہاجرین کی شناخت، قانونی حیثیت اور واپسی کے طریقہ کار کو مکمل کیا جاتا ہے۔
ترک سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ صوبہ ادرنہ جغرافیائی لحاظ سے ایک اہم سرحدی علاقہ ہے، جو یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے مرکزی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال بڑی تعداد میں مہاجرین ترکیہ کے راستے یورپی ممالک تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز کی سخت نگرانی کے باعث ان میں سے کئی افراد کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مائیگریشن مینجمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال ترکیہ بھر میں ایک لاکھ 52 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لیا گیا، جن میں 42 ہزار سے زیادہ افغان شہری شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ترکیہ غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔