وزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبار کارڈ کیلئے درخواست کیسے دیں ؟طریقہ جانیے

وزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبار کارڈ کیلئے درخواست کیسے دیں ؟طریقہ جانیے

وزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبار کارڈ اسکیم پنجاب کے چھوٹے کاروباری افراد اور تاجروں کے لیے ایک اہم حکومتی اقدام کے طور پر سامنے آئی ہے،  اسکیم کے تحت اہل درخواست گزاروں کو 10 لاکھ روپے تک کا بلا سود قرض فراہم کیا جاتا ہے، جس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مضبوط بنیاد مل سکتی ہے۔

آسان کاروبار کارڈ اسکیم کے تحت فراہم کیا جانے والا قرض تین سال کی مدت کے لیے ہوتا ہے، اس میں ابتدائی بارہ ماہ کے دوران ریوالونگ کریڈٹ کی سہولت دی جاتی ہے جس کے ذریعے کاروباری افراد ضرورت کے مطابق رقم استعمال کر سکتے ہیں۔

اس میں تین ماہ کا گریس پیریڈ بھی رکھا گیا ہے، جس کے بعد قرض کی واپسی24  برابر ماہانہ اقساط میں کی جاتی ہے،  اس قرض کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر شرح سود صفر فیصد ہے، یعنی یہ مکمل طور پر بلا سود قرض ہے۔

کاروباری افراد اس قرض کو مختلف کاروباری اخراجات کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، ان اخراجات میں سپلائرز کو ادائیگیاں، یوٹیلٹی بلز، حکومتی فیسیں اور ٹیکس شامل ہیں۔

اس کے علاوہ قرض کی مجموعی رقم کا 25 فیصد تک حصہ نقد بھی نکالا جا سکتا ہے تاکہ کاروبار سے متعلق فوری ضروریات پوری کی جا سکیں، تمام مالی لین دین ڈیجیٹل طریقے سے کیے جاتے ہیں تاکہ شفافیت برقرار رہے اور فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔

درخواست دینے کا طریقہ کار 

اس اسکیم کے لیے درخواست دینے کے لیے چند بنیادی شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے۔ درخواست گزار کا پاکستانی شہری ہونا لازمی ہے اور اس کی عمر 21 سے 57 سال کے درمیان ہونی چاہیے۔

درخواست گزار کے پاس درست قومی شناختی کارڈ اور رجسٹرڈ موبائل نمبر ہونا چاہیے جبکہ کاروبار کا پنجاب میں واقع ہونا بھی لازمی شرط ہے،  اس کے ساتھ ساتھ درخواست گزار کی کریڈٹ ہسٹری شفاف ہونی چاہیے اور اسے کریڈٹ و سائیکومیٹرک جانچ کے مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے،  اس اسکیم کے تحت ہر فرد یا کاروبار صرف ایک ہی درخواست دے سکتا ہے۔

درخواست دینے کا طریقہ کار مکمل طور پر آن لائن رکھا گیا ہے،  اس مقصد کے لیے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے ایک مخصوص پورٹل فراہم کیا گیا ہے جہاں درخواست گزار اپنی ذاتی معلومات، شناختی کارڈ کی تفصیلات اور کاروبار سے متعلق معلومات درج کرتا ہے۔

درخواست جمع کرواتے وقت 500  روپے کی ناقابل واپسی پراسیسنگ فیس ادا کرنا ضروری ہوتی ہے،  اس کے بعد مجاز ادارے شناختی کارڈ، کریڈٹ ہسٹری اور کاروباری مقام کی ڈیجیٹل تصدیق کرتے ہیں۔

درخواست منظور ہونے کے بعد آسان کاروبار کارڈ جاری کر دیا جاتا ہے جس کے ذریعے قرض کی رقم تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، ابتدائی طور پر قرض کی حد کا پچاس فیصد حصہ پہلے چھ ماہ کے دوران استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ باقی رقم بروقت ادائیگی اور پنجاب ریونیو اتھارٹی یا فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں رجسٹریشن کے بعد جاری کی جاتی ہے۔

اگرچہ یہ قرض بلا سود ہے، تاہم اس کے ساتھ کچھ انتظامی اخراجات بھی شامل ہیں،  ان میں سالانہ کارڈ فیس 25 ہزار روپے اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں :شہری ہوشیار ! نادرا کی جانب سے اہم ایڈوائزری جاری

اس کے علاوہ لائف انشورنس چارجز، کارڈ جاری کرنے کی فیس اور تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں بینک پالیسی کے مطابق جرمانے بھی لاگو ہو سکتے ہیں،  قرض لینے والے افراد کو ڈیجیٹل طور پر دستخط شدہ ذاتی ضمانت اور لائف انشورنس کوریج فراہم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

اسکیم کے تحت شفافیت برقرار رکھنے کے لیے نگرانی کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے، اربن یونٹ کی ٹیمیں چھ ماہ کے اندر کاروباری مقام کی فزیکل تصدیق کرتی ہیں اور بعد ازاں ہر سال معائنہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قرض کاروباری مقاصد کے لیے ہی استعمال ہو رہا ہے۔

حکومت پنجاب چھوٹے کاروباری افراد کو اضافی معاونت بھی فراہم کر رہی ہے،  کاروباری افراد پی ایس آئی سی اور بینک آف پنجاب کی ویب سائٹس کے ذریعے اسٹارٹ اپ کاروباروں کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید معلومات یا درخواست کے عمل میں رہنمائی کے لیے 1786 ہیلپ لائن پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے، یہ اسکیم نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد دے رہی ہے بلکہ صوبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا بھی باعث بن رہی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *