مصنوعی ذہانت میں نیا انقلاب، ’ایک سوال، 2 انداز، چیٹ جی پی ٹی کے نئے فیچر نے صارفین کو حیران کر دیا

مصنوعی ذہانت میں نیا انقلاب،  ’ایک سوال، 2 انداز، چیٹ جی پی ٹی کے نئے فیچر نے صارفین کو حیران کر دیا

دنیا بھر میں روزانہ کروڑوں افراد کی جانب سے استعمال کی جانے والی معروف مصنوعی ذہانت چیٹ سروس اوپن اے آئی نے اپنے صارفین کے لیے ایک دلچسپ اور منفرد سہولت متعارف کر رکھی ہے جس کے تحت اب صارفین 7 مختلف ’شخصیات‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

اس سہولت کے ذریعے صارف اپنے اکاؤنٹ میں جا کر گفتگو کے انداز کو اپنی پسند کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس فیچر کا مقصد صارفین کو زیادہ ذاتی نوعیت کا تجربہ فراہم کرنا ہے تاکہ ہر فرد اپنی ضرورت اور مزاج کے مطابق جوابات حاصل کر سکے۔

یہ بھی پڑھیں:نجی زندگی خطرے میں، چیٹ جی پی ٹی صارف کی خفیہ پروفائلز بنانے لگا

یہ ’شخصیات‘ دراصل جواب دینے کے انداز اور لہجے کا تعین کرتی ہیں، نہ کہ نظام کی بنیادی صلاحیتوں کا۔ یعنی معلومات، تجزیہ یا رہنمائی کی نوعیت تبدیل نہیں ہوتی بلکہ انداز بیان بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر پیشہ ورانہ انداز سنجیدہ اور باقاعدہ زبان میں جواب دیتا ہے، دوستانہ انداز نرم اور غیر رسمی لہجہ اختیار کرتا ہے، ہمدردانہ انداز جذباتی پہلو کو زیادہ اہمیت دیتا ہے، مؤثر انداز مختصر اور جامع جواب فراہم کرتا ہے، دل چسپ انداز ہلکی پھلکی شوخی شامل کر سکتا ہے، علمی انداز گہرے تجزیے اور تفصیل پر زور دیتا ہے جبکہ تنقیدی انداز سوالات کو مختلف زاویوں سے پرکھتا ہے۔

یہ سہولت نومبر 2025 میں متعارف کرائی گئی اور اسے مفت صارفین کے لیے بھی دستیاب کیا گیا، جس کے بعد صارفین کی بڑی تعداد نے اسے آزمایا۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے صارفین اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تعامل زیادہ ذاتی اور مؤثر ہو گیا ہے۔

مزید پڑھیں:ڈاکٹروں کا پیشہ خطرے میں، 40 فی صد افراد چیٹ جی پی ٹی پر بھروسہ کرنے لگے

اس فیچر کو فعال کرنے کے لیے صارفین کو اپنے اکاؤنٹ میں جا کر ترتیبات کے حصے میں ’ذاتی نوعیت‘ کے انتخاب پر کلک کرنا ہوتا ہے، جہاں مختلف شخصیات کی فہرست دستیاب ہوتی ہے۔ منتخب کرنے کے بعد صارف ہر شخصیت کو اضافی ہدایات بھی دے سکتا ہے تاکہ جواب اس کی مرضی کے مطابق ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف ایک ہی سوال کا دو مختلف انداز میں جواب چاہتا ہے تو وہ مختلف شخصیات منتخب کر کے یہ تجربہ کر سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی ذاتی نوعیت سازی مزید وسعت اختیار کرے گی، جہاں صارف نہ صرف انداز بلکہ جواب کی گہرائی، طوالت اور مثالوں کی نوعیت بھی طے کر سکے گا۔ اس پیش رفت کو مصنوعی ذہانت کو زیادہ انسانی اور قابل فہم بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *