بھارتی باوردی افراد جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا حصہ بننے لگے، عسکری سسٹم کی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کا بھانڈا پھوٹ گیا

بھارتی باوردی افراد جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا حصہ بننے لگے، عسکری سسٹم کی نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کا بھانڈا پھوٹ گیا

بھارت میں ایک نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے وزیراعظم نریندر مودی کے داخلی سیکیورٹی بیانیے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حاضر سروس بھارتی فوجی اہلکار منشیات اسمگلنگ کے ایک منظم نیٹ ورک میں ملوث پایا گیا ہے، جس کے بعد اسے دیگر ملزمان کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔

بھارتی اخبار The Hindu کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضلع فریدکوٹ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک سے وابستہ 6 افراد کو گرفتار کیا، جن میں ایک حاضر سروس فوجی اہلکار، ایک برطرف پولیس اہلکار اور چند دیگر افراد شامل ہیں۔ گرفتار فوجی کی شناخت جرنیل سنگھ جبکہ سابق پولیس اہلکار کی شناخت امر دیپ سنگھ کے نام سے کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کا بڑی تعداد میں سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہ،اہم تفصیلات سامنے آگئیں

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے 4.8 کلوگرام ہیروئن، اسلحہ، دو گاڑیاں اور ایک اسپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل برآمد کی گئی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان سرکاری شناختی کارڈز کا غلط استعمال کرتے ہوئے ناکوں اور ٹول پلازوں سے باآسانی گزر جاتے تھے اور اس طرح منشیات کی ترسیل کو یقینی بناتے تھے۔

بھارتی پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس گورو یادیو کے حوالے سے بتایا گیا کہ گرفتار افراد متعدد منشیات اسمگلنگ مقدمات میں ملوث رہے ہیں اور ان کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے تاکہ نیٹ ورک کے دیگر ارکان کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مودی  کی حکومت کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں داخلی سلامتی کو مضبوط قرار دیا جاتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سیکیورٹی اداروں کے اندر احتساب کا موثر نظام موجود نہ ہو تو باوردی اہلکار بھی منظم جرائم پیشہ گروہوں کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے ریاستی ڈھانچے پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *